خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 394
394 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اگست 2017 خطبات مسرور جلد 15 اور وہ یہ ہے کہ تم تمام سیفلی کینوں اور حسدوں کو چھوڑ دو اور ہمدرد نوع انسان ہو جاؤ اور خدا میں کھوئے جاؤ اور اس کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل کرو یہی وہ طریق ہے جس سے کرامتیں صادر ہوتی ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں اور فرشتے مدد کے لئے اترتے ہیں مگر یہ ایک دن کا کام نہیں۔ترقی کرو۔ترقی کرو۔اس دھوبی سے سبق سیکھو جو کپڑوں کو اول بھٹی میں جوش دیتا ہے اور دیئے جاتا ہے یہاں تک کہ آخر آگ کی تاثیریں تمام میل اور چرک کو کپڑوں سے علیحدہ کر دیتی ہیں۔تب صبح اٹھتا ہے اور پانی پر پہنچتا ہے اور پانی میں کپڑوں کو تر کرتا ہے اور بار بار پتھروں پر مارتا ہے تب وہ میل جو کپڑوں کے اندر تھی اور ان کا جزو بن گئی تھی کچھ آگ سے صدمات اٹھا کر اور کچھ پانی میں دھوبی کے بازو سے مار کھا کر یکد فعہ جد اہونی شروع ہو جاتی ہے۔" کپڑے ایسے دھوتے ہوئے ان کو بار بار ملنا پڑتا ہے یا دھوبی ان کو پتھروں پے مارتا ہے یا آجکل واشنگ مشینیں ہیں تو ان کو اس تیزی سے گھماتی ہیں کہ وہ میں اتر جاتی ہے یہی مثال آپ نے دی ہے۔فرمایا کہ " یہاں تک کہ کپڑے ایسے سفید ہو جاتے ہیں جیسے ابتدا میں تھے۔یہی انسانی نفس کے سفید ہونے کی تدبیر ہے۔" جس طرح کپڑے دھلتے ہیں وہی تدبیر جو ہے انسانی نفس کے پاک ہونے کی ہے " اور تمہاری ساری نجات اس سفیدی پر موقوف ہے۔یہی وہ بات ہے جو قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔قَدْ اَفْلَحَ مَن زَ تھا۔(الشمس: 10) یعنی وہ نفس نجات پا گیا جو طرح طرح کے میلوں اور چر کوں سے پاک کیا گیا۔" (گور نمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 14-15) پس اس طرح اپنے نفس کو دھونے کی کوشش کرنی چاہئے جس طرح کپڑے دھلنے کی مثال ہمارے سامنے ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم آپ کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی کرنے والے ہوں۔صلح کی بنیاد ڈالنے والے ہوں۔توحید کا صحیح ادراک حاصل کرنے والے ہوں۔اور معاشرے میں محبت اور پیار بکھیر نے والے ہوں۔دنیاوی خواہشات کو کبھی اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش میں ہم ہمیشہ رہیں اور یہی ہماری اولین ترجیح ہو۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 08 ستمبر 2017 ء تا 14 ستمبر 2017ء جلد 24 شمارہ 36 صفحہ 05تا08)