خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 393 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 393

خطبات مسرور جلد 15 393 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اگست 2017 ہیں ویسے خدا کا بھی قانون ہے۔جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔پس جب تک تبدیلی نہ ہو گی تب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں۔"فرمایا" خدا تعالیٰ ہر گز پسند نہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔اگر تم ان صفات حسنہ میں ترقی کروگے تو بہت جلد خدا تک پہنچ جاؤ گے۔" پس ہمارا مقصد آپ کی جماعت میں شامل ہونا اس لئے ہے کہ خدا تعالیٰ کو راضی کریں اور حقیقی توحید کو ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 127-128) اپنے دلوں پر قائم کریں۔پھر جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے ان اخلاق کو بھی اختیار کرنا ہو گا جو حقوق العباد سے تعلق رکھتے ہیں، جو دوسروں کے حقوق ادا کرنے سے ملتے ہیں۔آپ نے ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مجھ سے تعلق جوڑا ہے اور میری فوج میں داخل ہونے کا دعویٰ ہے تو اعلیٰ اخلاق اختیار کرنے ہوں گے اور فتنہ وفساد کی حالت کو چھوڑنا ہو گا۔آپ نے اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو فرمایا کہ " وہ دلوں کو پاک کریں اور اپنے انسانی رحم کو ترقی دیں اور دردمندوں کے ہمدرد بنیں، زمین پر صلح پھیلا دیں کہ اس سے ان کا دین پھیلے گا۔" ( گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 15) اسلام پھیلے گا۔تبلیغ کے رستے کھلیں گے۔آپ نے فرمایا کہ " پس اٹھو ! اور تو بہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو۔" لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 174) پھر ایک جگہ اپنی جماعت کو اپنے دلوں سے بعضوں اور کینوں کو نکالنے اور بنی نوع انسان سے ہمدردی کرنے اور صلح کی بنیاد ڈالنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔"میں اس وقت اپنی جماعت کو جو مجھے مسیح موعود مانتی ہے خاص طور پر سمجھاتا ہوں کہ وہ ہمیشہ ان ناپاک عادتوں سے پر ہیز کریں۔مجھے خدا نے جو مسیح موعود کر کے بھیجا ہے اور حضرت مسیح ابن مریم کا جامہ مجھے پہنا دیا ہے اس لئے میں نصیحت کر تاہوں کہ شر سے پر ہیز کرو اور نوع انسان کے ساتھ حق ہمدردی بجالاؤ۔اپنے دلوں کو بعضوں اور کینوں سے پاک کرو کہ اس عادت سے تم فرشتوں کی طرح ہو جاؤ گے۔کیا ہی گندہ اور ناپاک وہ مذہب ہے جس میں انسان کی ہمدردی نہیں اور کیا ہی ناپاک وہ راہ ہے جو نفسانی بغض کے کانٹوں سے بھرا ہے۔سو تم جو میرے ساتھ ہو ایسے مت ہو۔تم سوچو کہ مذہب سے حاصل کیا ہے۔کیا یہی کہ ہر وقت مردم آزاری تمہارہ شیوہ ہو۔"لوگوں کو دکھ پہنچانا تمہارا شیوہ بن جائے۔فرمایا " نہیں۔بلکہ مذہب اس زندگی کے حاصل کرنے کے لئے ہے جو خدا میں ہے۔اور وہ زندگی نہ کسی کو حاصل ہوئی اور نہ آئندہ ہو گی بجز اس کے کہ خدائی صفات انسان کے اندر داخل ہو جائیں۔خدا کے لئے سب پر رحم کرو۔" وہ زندگی حاصل کرنی ہے تو بغیر کسی کوشش کے نہیں ہوگی یا بغیر اعلیٰ اخلاق کو اپنائے نہیں ہو گی۔فرمایا کہ خدا کے لئے سب پر رحم کرو " تا آسمان سے تم پر رحم ہو۔آؤ میں تمہیں ایک ایسی راہ سکھاتا ہوں جس سے تمہارا نور تمام نوروں پر غالب رہے