خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 392 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 392

خطبات مسرور جلد 15 392 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اگست 2017 بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَانَهُ وَلِى حَمیم۔( حم السجدہ: 35) کہ ایسی چیز سے دفاع کر وجو بہترین ہو۔اگر اس طرح احسن رنگ میں کرو گے تو تب ایسا شخص جس کے اور تیرے در میان دشمنی ہے گویا کہ وہ گہرے دوست بن جائیں گے۔آپ فرماتے ہیں کہ یعنی آپس میں صلح کاری اختیار کرو۔صلح میں خیر ہے جب وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ۔خدا کے نیک بندے صلح کاری کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں اور اگر کوئی لغویات کسی سے سنیں جو جنگ کا مقدمہ اور لڑائی کی ایک تمہید ہو تو بزرگانہ طور پر طرح دے کر چلے جاتے ہیں۔اگر لغو بات سنتے ہیں جس کی وجہ سے لڑائی پیدا ہونے کا خطرہ ہو ، لڑائی ہونے کا خطرہ ہو تو پھر وہ بزرگانہ طور پر اس سے بچتے ہوئے ایک طرف ہو جاتے ہیں اور فرمایا کہ اور ادنی ادنیٰ بات پر لڑنا شروع نہیں کر دیتے۔یعنی جب تک کوئی زیادہ تکلیف نہ پہنچے اس وقت تک ہنگامہ پردازی کو اچھا نہیں سمجھتے۔اور صلح کاری کے محل شناسی کا یہی اصول ہے کہ ادنی ادنی باتوں کو خیال میں نہ لاویں اور معاف فرما دیں۔اور لغو کا لفظ جو اس آیت میں آیا ہے سو واضح ہو کہ عربی زبان میں لغو اس حرکت کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک شخص شرارت سے ایسی بکو اس کرے یا بہ نیت ایذاء ایسا فعل اس سے صادر ہو کہ دراصل اس سے کچھ ایسا حرج اور نقصان نہیں پہنچتا۔منہ سے فضول باتیں کر رہا ہے ، بکواس کر رہا ہے یا نقصان پہنچانے کی نیت ہو جس سے زیادہ کوئی حرج بھی نہ ہو تا ہو سو صلح کاری کی یہ علامت ہے کہ ایسی بیہودہ ایڈا سے چشم پوشی فرماویں۔اگر کوئی ہلکا سا چھوٹا موٹا نقصان بھی پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو صرف نظر کرو۔چھوڑ دو اسے اور بزرگانہ سیرت عمل میں لاویں۔آپ فرماتے ہیں اور پھر فرمایا کہ جو شخص شرارت سے کچھ یاوہ گوئی کرے تو تم نیک طریق سے صلح کاری کا اس کو جواب دو تب اس خصلت سے دشمن بھی دوست ہو جائے گا۔(ماخوذ از اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 348-349) پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : " اس جماعت کو تیار کرنے میں غرض یہی ہے کہ زبان، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقویٰ سرایت کر جاوے۔تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو۔اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو۔اور بے جاغصہ اور غضب و غیرہ بالکل نہ ہو۔" آپ فرماتے ہیں کہ "میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصہ کا نقص اب تک موجود ہے۔تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا دقت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے اور دوسر اچپ کر رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ہر ایک جماعت کی اصلاح اول اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔چاہئے کہ ابتداء میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے۔فرمایا کہ "سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بد گوئی کرے تو اس کے لئے درد دل سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے اور دل میں کینہ کو ہر گز نہ بڑھاوے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " جیسے دنیا کے قانون