خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 391
خطبات مسرور جلد 15 391 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اگست 2017 فرماتے ہیں۔پس بلا شبہ صلح کاری اعلیٰ درجہ کا ایک خُلق ہے اور انسانیت کے لئے از بس ضروری۔اور اس خلق کے مناسب حال طبعی قوت جو بچے میں ہوتی ہے جس کی تعدیل سے یہ خُلق بنتا ہے الفت یعنی خو گرفتگی ہے۔فرماتے ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ انسان صرف طبعی حالت میں یعنی اس حالت میں کہ جب انسان عقل سے بے بہرہ ہو صلح کے مضمون کو نہیں سمجھ سکتا اور نہ جنگجوئی کے مضمون کو سمجھ سکتا ہے۔یہ خُلق جو ہے یہ بچوں میں پیدا ہوتا ہے۔صلح کرنا، صلح کی طرف قدم بڑھانا فطرت کا حصہ ہے۔بچے جو ہیں وہ فوری طور پر بھول جاتے ہیں اور صلح کی طرف بڑھتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ انسان اس طبعی حالت کو اسی وقت سمجھ سکتا ہے جب عقل بھی ہو۔اگر عقل نہیں ہے تو انسان صلح کے مضمون کو سمجھ نہیں سکتا اور اسی طرح نہ جنگجوئی کے مضمون کو سمجھ سکتا ہے۔کس وقت صلح کرنی اور کس وقت کن حالات میں جنگ ہوئی ہے۔فرمایا کہ پس اس وقت جو ایک عادت موافقت کی اس میں پائی جاتی ہے وہ صلح کاری کی عادت کی ایک جڑھ ہے۔لیکن چونکہ وہ عقل اور تدبر اور خاص ارادے سے اختیار نہیں کی جاتی اس لئے خُلق میں داخل نہیں ہوتی بلکہ خُلق میں تب داخل ہو گی کہ جب انسان بالا رادہ اپنے تئیں بے شر بنا کر صلح کاری کے خُلق کو اپنے محل پر استعمال کرے۔اگر عقل نہیں ہے انسان میں یا طاقت نہیں ہے اُس وقت یا بچے کی حالت ہے تو وہ ایک اعلیٰ خُلق نہیں ہے۔اعلیٰ خُلق تبھی بنے گا جب سارے حالات کا جائزہ لے اور پھر انسان ارادہ کر کے اور کوشش کر کے پھر صلح کی بنیاد کو ڈالے اور اس کو اپنے محل پہ استعمال کرے۔یا اگر بعض دفعہ ملکوں میں یا قوموں میں جنگ کی صورت پیش آجاتی ہے اس وقت وہ فیصلے کرتے ہیں۔لیکن انصاف سے دور ہو کر نہیں، عقل سے ہٹ کر نہیں بلکہ موقع اور محل کے حساب سے اور سوچ سمجھ کر یہ فیصلے ہوتے ہیں۔صلح کاری کی بنیاد بھی صحیح محل پہ ہو، صحیح موقع پر ہو تو یہ ایک اعلیٰ خُلق تبھی بنتا ہے۔فرمایا کہ جب انسان بالا رادہ اپنے تئیں بے شر بنا کر صلح کاری کے خُلق کو اپنے محل پر استعمال کرے اور بے محل استعمال کرنے سے مجتنب رہے۔اس میں اللہ جل شانہ یہ تعلیم فرماتا ہے وَاَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ - (الانفال:2) کہ اپنے درمیان اصلاح کرو۔وَالصُّلْحُ خَيْرُ۔(النساء: 129) صلح بہر حال بہتر ہے۔وَإِنْ جَنَحُوا لِلسّلْمِ فَاجْنَحْ لھا۔(الانفال:62) کہ اگر وہ صلح کے لئے جھک جائیں تو تو بھی ان کے لئے صلح کے لئے جھک جا۔اگر دشمن صلح کے لئے جھک جائے یا دوسرا فریق صلح کی طرف مائل ہو تو پھر صلح کرو۔وَإِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا۔(الانفال:62)۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا۔(الفرقان: 64) کہ اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ ، عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا - (الفرقان: 73) اور جب وہ لغویات کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گزرتے ہیں۔پھر آپ نے یہ آیت QUOTE کی کہ اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي