خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 13
خطبات مسرور جلد 15 13 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017 کرتی رہیں کہ جماعت سے ہمیشہ وابستہ رہنا۔ملازموں سے بھی نہایت نرمی کا سلوک تھا۔گھر میں ان کی ملازمہ تھی اس کے بارے میں اپنی لے پالک بچی کو کہا تھا کہ میرے بعد اس کا خیال رکھنا اور اس کو جو کوارٹر میں نے گھر میں دیا ہوا ہے وہاں سے نکالنا نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرم چوہدری حمید نصر اللہ خان صاحب کا ہے جو 4 جنوری 2017ء کو لاہور میں 83 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔چوہدری حمید نصر اللہ خان صاحب کے دادا حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور ان کے نانا حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال تھے۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ان کے والد چوہدری محمد عبد اللہ خان صاحب ایک لمبے عرصے تک کراچی کی جماعت کے امیر رہے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ان کے تایا بھی تھے اور سسر بھی تھے۔1964ء میں حمید نصر اللہ خان صاحب کی شادی امتہ الحئی صاحبہ بنت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ساتھ ہوئی اور ان کی اولاد مصطفی نصر اللہ خان اور ابراہیم نصر اللہ خان ہے جو سولہ سال کی عمر میں وفات پا گیا تھا اور عائشہ نصر اللہ ایک بیٹی ہیں۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی بیٹی سے چوہدری حمید نصر اللہ کی جو شادی ہوئی تھی اس کی پہلے بھی ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب سے شادی ہوئی تھی جس سے ان کے دو بیٹے تھے۔محمد فضل الحق اور احمد نصر اللہ۔5 فروری 1994ء کو احمد نصر اللہ کو لاہور میں شہید بھی کر دیا گیا تھا تو اس وقت ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔بیوی کے جو پہلے بچے تھے ان کو بھی بڑے پیار سے اور بچوں کی طرح انہوں نے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ان کو 1975ء میں جماعت احمد یہ لاہور کا امیر مقرر کیا تھا۔چونیتس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جماعت احمدیہ لاہور کی امارت پر فائز رہے۔2009ء سے ان کی طبیعت زیادہ ٹھیک نہیں رہتی تھی۔پھر میرے کہنے پر کہ اپنے آپ کو دیکھ لیں پھر بتائیں تو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں کام سے معذرت کرتاہوں۔معذرت اس لحاظ سے کہ صحت اجازت نہیں دیتی کہ امارت کا کام جو بڑا وسیع کام ہے چلا سکوں تو اس کے بعد پھر نئے امیر شیخ منیر صاحب مقرر ہوئے تھے جن کی 2010ء میں شہادت ہوئی۔2008ء تک یا تقریباً 2009ء تک یہ امیر رہے ہیں۔1974ء کے جو مخالفت کے حالات تھے اس میں بھی یہ گو با قاعدہ امیر تو نہیں تھے لیکن بہت ساری ذمہ داری حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ان کے سپرد کی ہوئی تھی اور بڑی خوبی سے سرانجام دیتے تھے۔ہائیکورٹ میں جب 74ء میں جسٹس صمدانی انکوائری کمیشن قائم ہوا ہے تو اس میں بھی آپ کی کافی خدمات تھیں۔1984ء کے ابتلاء کے دور میں جو کیس وفاقی شرعی عدالت لاہور میں زیر کارروائی تھا اس میں بھی آپ نے مختلف خدمات سر انجام دیں۔ان کو یہ بھی اعزاز حاصل تھا کہ حضرت خلیفتہ المسح الرابع کی پاکستان سے ہجرت کے موقع پر آپ ربوہ سے