خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 390
خطبات مسرور جلد 15 390 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اگست 2017 جب یہ اندرونی بت تکبر ، خود پسندی، ریاکاری، کینه وعداوت، حسد و بخل، نفاق و بد عہدی وغیرہ کے دور ہو جاویں۔" حقیقی موحد بننا ہے تو پھر تکبر بھی چھوڑنا ہو گا۔خود پسندی بھی چھوڑنی ہو گی۔بناوٹ اور ریا کاری کو بھی چھوڑنا ہو گا۔کینہ اور عداوت رکھنا بھی چھوڑنا ہو گا۔کوئی صلح کرنے کے لئے آتا ہے، معافی مانگتا ہے تو اس کو معاف بھی کرنا ہو گا۔دلوں میں کینے پالنے نہیں چاہئیں۔دشمنیاں نہیں رکھنی چاہئیں۔حسد اور بخل کو بھی چھوڑنا ہو گا۔نفاق اور بد عہدی کو بھی چھوڑنا ہو گا۔یہ ساری چیزیں چھوڑیں گے تو آپ نے فرمایا کہ پھر ہی سچے موحد بن سکتے ہو۔تبھی لا الہ الا اللہ کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہو۔آپ فرماتے ہیں کہ "جب تک یہ بت اندر ہی ہیں اس وقت تک لا اله الا اللہ کہنے میں کیونکر سچا ٹھہر سکتا ہے ؟ کیونکہ اس میں تو کل کی نفی مقصود ہے۔پس یہ پکی بات ہے کہ صرف منہ سے کہہ دینا کہ خدا کو وحدہ لا شریک مانتا ہوں کوئی نفع نہیں دے سکتا۔ابھی منہ سے کلمہ پڑھتا ہے اور ابھی کوئی امر ذرا مخالف مزاج ہوا اور غصہ اور غضب کو خدا بنالیا۔" لملفوظات جلد 9 صفحہ 106-107) پس خلاصہ یہ کہ انسان کے اندر سے نفسانیت کا کیڑا اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں نکل سکتا اور اللہ تعالیٰ کا فضل بغیر حقیقی توحید پر قائم ہوئے نہیں مل سکتا۔نرا لا إله إِلَّا الله منہ سے کہہ دینے سے انسان موحد نہیں بن سکتا۔موحد بننے کے لئے اللہ تعالیٰ کو سب طاقتوں کا مالک سمجھنا ضروری ہے اور اس کو معبود حقیقی سمجھنا ضروری ہے۔اور اگر اللہ تعالیٰ کو سب طاقتوں کا مالک سمجھا جائے اور معبود حقیقی سمجھا جائے تو پھر دنیاوی حیلوں سے ، دنیاوی بہانوں سے ، مختلف طریقوں سے ، انسان دوسرے انسانوں کا حق نہیں مار سکتا۔پس جو اپنے بھائیوں کے حق ادا نہیں کرتا، جو صلح کی طرف قدم نہیں بڑھاتا، جو دشمنیوں کو ختم نہیں کرتا وہ توحید کا بھی قائل نہیں۔یہ خلاصہ ہے آپ کے اس بیان کا۔یہ ایک ایسا نکتہ ہے کہ اگر اسے سمجھ لیا جائے تو ہم سب ہمیشہ صلح کی بنیاد ڈالنے والے بن جائیں اور دوسروں کے حق ادا کرنے والے بن جائیں۔پس ہم میں سے ہر ایک کو اس مضمون کو سمجھتے ہوئے اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ورنہ ہمارے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے۔منہ سے تو توحید کا اقرار ہے لیکن عمل سے اس کی نفی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی ، میں ترک شر کی قسموں کا ذکر فرمایا اور یہ ذکر فرماتے ہوئے ایک قسم آپ نے یہ بیان فرمائی یعنی کہ شر کو کس طرح ترک کیا جا سکتا ہے۔کس طرح کیا جانا چاہئے اور کس طرح ترک ہوتا ہے اور مختلف طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ دوسرے کو ظلم کی راہ سے بدنی آزار نہ پہنچانا اور بے شر ہونا اور صلح کاری کی زندگی بسر کرنا۔ایک قسم ترک شرک کی یہ ہے۔بالکل ایسی زندگی گزار نا کہ کسی بھی قسم کا ظلم کسی پر نہ کرنا۔کسی کو نقصان نہ پہنچانا بلکہ خالص بالکل مکمل طور پر بے شر ہو جانا اور صلح کی بنیاد ڈالنا، صلح سے زندگی گزارنا۔آپس میں محبت اور پیار کو بڑھانا یہ ضروری ہے۔اس بارے میں آپ مزید