خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 389

خطبات مسرور جلد 15 389 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اگست 2017 بزرگ کہلاتے ہیں وہ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں کہ جب اپنا موقع آتا ہے تو پھر سب کچھ بھول جاتے ہیں اور نہ پھر ان کو خدا یاد رہتا ہے نہ بندوں کے حق ادا کرنے اور اعلیٰ اخلاق یاد رہتے ہیں۔فرمایا " ان بتوں سے پر ہیز کرنا ہی تو بہادری ہے اور ان کو شناخت کرنا ہی کمال دانائی اور دانشمندی ہے۔یہی بت ہیں جن کی وجہ سے آپس میں نفاق پڑتا ہے اور ہزاروں کشت وخون ہو جاتے ہیں۔ایک بھائی دوسرے کا حق مارتا ہے اور اسی طرح ہزاروں ہزار بدیاں ان کے سبب سے ہوتی ہیں۔" فرماتے ہیں کہ " ہر روز اور ہر آن ہوتی ہیں اور اسباب پر اس قدر بھروسہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کو محض ایک عضو معطل قرار دے رکھا ہے۔بہت ہی کم لوگ ہیں جنہوں نے توحید کے اصل مفہوم کو سمجھا ہے اور اگر انہیں کہا جاوے تو جھٹ کہہ دیتے ہیں کیا ہم مسلمان نہیں اور کلمہ نہیں پڑھتے ؟ مگر افسوس تو یہ ہے کہ انہوں نے اتنا ہی سمجھ لیا ہے کہ بس کلمہ منہ سے پڑھ دیا اور یہ کافی ہے۔"جو اصل مقصد ہے، اصل مفہوم ہے تو حید کا اس کو نہیں سمجھے۔سمجھ لیا کہ لا الہ الا اللہ پڑھ دیا اور کافی ہو گیا۔آپ فرماتے ہیں کہ "میں یقینا کہتا ہوں کہ اگر انسان کلمہ طیبہ کی حقیقت سے واقف ہو جاوے اور عملی طور پر اس پر کار بند ہو جاوے تو وہ بہت بڑی ترقی کر سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔" فرماتے ہیں کہ " یہ امر خوب سمجھ لو کہ میں جو اس مقام پر کھڑا ہوں میں معمولی واعظ کی حیثیت سے نہیں کھڑ اہوں اور کوئی کہانی سنانے کے لئے نہیں کھڑ ا ہوں بلکہ میں تو ادائے شہادت کے لئے کھڑا ہوں۔میں نے وہ پیغام جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے، پہنچا دینا ہے۔فرمایا کہ " اس امر کی مجھے پروا نہیں کہ کوئی اسے سنتا ہے یا نہیں سنتا اور مانتا ہے یا نہیں مانتا اس کا جواب تم خود دو گے۔میں نے فرض ادا کرنا ہے۔میں جانتا ہوں بہت سے لوگ میری جماعت میں داخل تو ہیں اور وہ توحید کا اقرار بھی کرتے ہیں مگر میں افسوس سے کہتا ہوں کہ وہ مانتے نہیں۔جو شخص اپنے بھائی کا حق مارتا ہے یا خیانت کرتا ہے یا دوسری قسم کی بدیوں سے باز نہیں آتا میں یقین نہیں کرتا کہ وہ توحید کا ماننے والا ہے۔" ( ملفوظات جلد 9 صفحہ: 105-106) فرماتے ہیں کہ " ( خدا کے واحد ماننے کے لئے ساتھ یہ لازم ہے کہ اس کی مخلوق کی حق تلفی نہ کی جاوے۔جو شخص اپنے بھائی کا حق تلف کرتا ہے اور اس کی خیانت کرتا ہے وہ لا الہ الا اللہ کا قائل نہیں۔)" (ملفوظات جلد 9 صفحہ : 106 حاشیہ) لا اله الا اللہ کا قائل ہونایا توحید کا قائل ہونے والا پھر بندوں کے حقوق بھی نہیں غصب کرتا۔فرمایا " کیونکہ یہ ایک ایسی نعمت ہے کہ اس کو پاتے ہی انسان میں ایک خارق عادت تبدیلی ہو جاتی ہے۔" اگر لا اله الا اللہ کا مفہوم سمجھ لو تو ایک غیر معمولی تبدیلی تمہارے اندر پیدا ہو جائے۔فرمایا کہ " اس میں بغض، کینہ ، حسد، ریا وغیرہ کے ثبت نہیں رہتے اور خدا تعالیٰ سے اس کا قرب ہوتا ہے۔یہ تبدیلی اسی وقت ہوتی ہے اور اسی وقت وہ سچا موحد بنتا ہے