خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 388

خطبات مسرور جلد 15 388 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اگست 2017 مخلوق کے حق بھی ادا کرنے والے ہوں۔فرماتے ہیں کہ "بہت سے رند اور عیاش ایسے دیکھے گئے ہیں جو کسی خارق عادت نشان کے قائل نہیں ہوئے لیکن اخلاقی حالت کو دیکھ کر انہوں نے بھی سر جھکا لیا ہے۔مان گئے۔بڑے بڑے مجرم، بڑے بڑے بد معاش، بڑے بڑے عیاش تھے۔نشانوں کو دیکھ کے تو ان کی حالت نہیں بدلی لیکن اخلاقی حالت دیکھ کر انہوں نے سر جھکا لیا، مان گئے۔" اور بجز اقرار اور قائل ہونے کے دوسری راہ نہیں ملی“۔فرماتے ہیں کہ ”بہت سے لوگوں کے سوانح میں اس امر کو پاؤ گے کہ انہوں نے اخلاقی کرامات ہی کو دیکھ کر دین حق کو قبول کر لیا۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 141-142) جب آپ یہ بات بیان کر رہے تھے اس وقت آپ کی ذات سے اس کا ایک عملی اظہار بھی ہو گیا۔پہلے بھی میں یہ واقعہ بیان کر چکا ہوں کہ اُس وقت دو سکھ آئے اور مجلس میں بیٹھ کر فضول گوئی شروع کر دی۔گالیاں دینی شروع کر دیں۔بکواس شروع کر دی اور آپ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے بولتے رہے۔آپ نے کچھ نہیں کہا۔خاموشی سے سنتے رہے۔اس وقت سب لوگوں کے یہ جذبات تھے کہ اعلیٰ اخلاق کا کیسا عملی اظہار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔حالانکہ آپ کی جگہ تھی، آپ کی مجلس تھی، احمدی لوگ تھے لیکن آپ نے کسی کو اجازت نہیں دی کہ انہیں کچھ کہے اور جو اُن کے منہ میں آیا، جو گالیاں بک سکتے تھے بکیں، بولے اور چلے گئے۔یا پھر بعد میں پولیس نے ان کو پکڑ لیا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 142) تو یہ وہ اعلیٰ معیار تھا جس کا آپ نے اپنا نمونہ بھی اپنے ماننے والوں کے سامنے پیش فرمایا۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ اگر انسان کے اندر سے نفسانیت کا کیڑا نہیں نکلتا تو اس کا توحید پر بھی ایمان نہیں ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے سوا یہ کیڑے اندر سے نہیں نکل سکتے۔" یعنی نفسانیت کے کیڑے۔پس اللہ تعالیٰ ہی کا فضل حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔فرماتے ہیں کہ "یہ بہت ہی باریک کیڑے ہیں اور سب سے زیادہ ضرر اور نقصان ان کا ہی ہے۔جو لوگ جذبات نفسانی سے متاثر ہو کر اللہ تعالیٰ کے حقوق اور حدود سے باہر ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر حقوق العباد کو بھی تلف کرتے ہیں وہ ایسے نہیں کہ پڑھے لکھے نہیں بلکہ ان میں ہزاروں کو مولوی فاضل اور عالم پاؤ گے۔اور بہت ہوں گے جو فقیہ اور صوفی کہلاتے ہوں گے۔مگر باوجود ان باتوں کے وہ بھی ان امراض میں مبتلا نکلیں گے۔" یہ صرف جاہلوں کا کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کا حق اور بندوں کے حق ادا نہیں کرتے یا موقع آئے تو لو گوں کے حق مارنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ آپ نے فرمایا کہ بہت سارے پڑھے لکھے لوگ ایسے ہیں بلکہ علماء اور عالم لوگوں میں اور اس سے بھی بڑھ کر جو دین کا علم رکھنے والے ہیں اور عام دنیا میں وہ بڑے فقیہ اور بڑے صوفی کہلاتے ہیں،