خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 387 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 387

خطبات مسرور جلد 15 387 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اگست 2017 چنانچہ ایک موقع پر اپنی ایک مجلس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں جو اسی حدیث کی تشریح بھی ہے کہ "ہماری جماعت میں شہز ور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں۔" ہمیں وہ نہیں چاہئیں جو بڑے زور آور ہوں اور پہلوان ہوں۔فرمایا کہ "بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں جو تبدیل اخلاق کے لئے کوشش کرنے والے ہوں۔" اپنے اخلاق کو بدلنے اور اعلیٰ معیاروں تک لے جانے والے ہوں۔فرمایا " یہ ایک امر واقعی ہے کہ وہ شہزور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑ کو جگہ سے ہٹا سکے۔نہیں نہیں۔" فرمایا کہ "اصلی بہادر وہی ہے جو تبدیل اخلاق پر مقدرت پاوے۔" جو اپنے آپ پر کنٹرول رکھتا ہو اور اخلاق کو اعلیٰ اپنانے کی طاقت رکھتا ہو۔فرمایا کہ " پس یادر کھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیل اخلاق میں صرف کرو کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے۔" (ملفوظات جلد 1 صفحہ 140) پس یہ ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔پھر ایک موقع پر ایک مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "میں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو اپنے اخلاق سیئہ کو چھوڑ کر عادات ذمیمہ کو ترک کر کے خصائل حسنہ کو لیتا ہے " برے اخلاق کو چھوڑتا ہے، بری عادتوں کو چھوڑتا ہے اور اچھی اخلاق اور خصلتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔فرمایا " اس کے لئے وہی کرامت ہے۔یہ تبدیلی ہونا، اعلیٰ اخلاق حاصل کرنا اس کے لئے ایک معجزہ ہے اور ایک کرامت ہے۔لوگ کہتے ہیں کیا کرامت ہوئی ؟ بیعت میں آکر کیا کرامت دکھائی۔تو بیعت میں آکر کر امت یہی ہے کہ اعلیٰ اخلاق اپنا لئے اور بری باتوں کو چھوڑ دیا۔فرمایا کہ "مثلاً اگر بہت ہی سخت تُند مزاج اور غصہ ور ان عادات بد کو چھوڑتا ہے اور حلم اور عفو کو اختیار کرتا ہے یا امساک کو چھوڑ کر سخاوت ، اور حسد کی بجائے ہمدردی حاصل کرتا ہے تو بیشک یہ کرامت ہے۔" برائیاں چھوڑیں۔اچھے اخلاق اختیار کئے۔غصہ کو چھوڑا اور معافی اور حلم کی عادت ڈالی۔کنجوسی کو چھوڑا اور سخاوت کی۔حسد کے بجائے دوسروں سے ہمدردی کے جذبات رکھے تو فرماتے ہیں کہ یہ ایک کرامت ہے، ایک انقلاب ہے جو تمہارے اندر پیدا ہو گیا۔فرمایا " اور ایسا ہی خود ستائی اور خود پسندی کو چھوڑ کر جب انکساری اور فروتنی اختیار کرتا ہے تو یہ فروتنی ہی کرامت ہے۔پس تم میں سے کون ہے جو نہیں چاہتا کہ کراماتی بن جاوے۔" فرمایا کہ " میں جانتا ہوں ہر ایک یہی چاہتا ہے تو بس یہ ایک مدامی اور زندہ کرامت ہے۔" اگر ہمیشہ قائم رہنے والی کوئی کرامت ہے تو یہی کرامت ہے۔یہی معجزہ ہے اور یہی انقلاب ہے جو تمہیں اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے کہ بدیوں کو چھوڑ کر، بد اخلاقیوں کو چھوڑ کر اعلیٰ اخلاق اختیار کرو۔فرمایا " انسان اخلاقی حالت کو درست کرے کیونکہ یہ ایسی کرامت ہے جس کا اثر کبھی زائل نہیں ہو تا بلکہ نفع دُور تک پہنچتا ہے۔مومن کو چاہئے کہ خلق اور خالق کے نزدیک اہل کرامت ہو جاوے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اہل کرامت بن جاؤ۔مخلوق کے نزدیک بھی اہل کرامت بن جاؤ۔اللہ تعالیٰ کے حق بھی ادا کرنے والے ہوں۔