خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 386
خطبات مسرور جلد 15 عادت بنالی جاوے۔" 386 خطبه جمعه فرموده مورخہ 18 اگست 2017 (ملفوظات جلد 9 صفحہ 74) پس ہمیں ہر وقت یہ بات سامنے رکھنی چاہئے کہ آجکل کی دنیا میں جہاں ہر وقت اور ہر جگہ فتنہ وفساد کی حالت طاری ہے ہم جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر ایک حصار میں آیا ہوا سمجھتے ہیں اور اس بات پر شکر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا کی عمومی فساد کی حالت سے محفوظ رکھا ہوا ہے حقیقت میں ہم اس وقت محفوظ ہو سکتے ہیں جب ہر وقت ہم یہ احساس رکھیں کہ اپنے جائز معاملات میں بھی دوسروں سے معاملات پڑنے پر نرمی کا رویہ رکھنا ہے اور صلح کی بنیاد ڈالنی ہے۔ورنہ ہماری باتیں صرف باتوں کی حد تک رہیں گی اور ہمارا دعویٰ صرف دعوے کی حد تک ہی ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر کوئی فائدہ ہوا ہے۔یہ ہمارا دعویٰ تو ہو سکتا ہے لیکن حقیقت نہیں۔فائدہ اُسی وقت ہو گا جب اعلیٰ اخلاق کا ہر خُلق ہم میں اپنی چمک دکھا رہا ہو گا۔ہمدردی خلق اور صلح ایک ایسا خُلق ہے جس کو اپنانے کی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار نصیحت فرمائی ہے۔پس ہر احمدی کو اس پہ بہت توجہ دینی چاہئے۔آپ کے بعض اور اقتباسات بھی ہیں۔اپنی مختلف کتابوں میں، اپنی ملفوظات میں آپ نے بار بار اس کا تذکرہ کیا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طاقتور پہلوان وہ شخص نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے۔اصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو ر کھتا ہے۔(صحيح البخارى كتاب الأدب باب الحذر من الغضب حديث 6114) پس یہ ایک مومن کی شان ہے کہ اس طرح کے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرے۔غصہ کی حالت میں اپنے او پر کنٹرول ہونا چاہئے۔کبھی کوئی کافر اس بات پر عمل نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لئے تو یہ حیرانی کی بات ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ آتا ہے جب آپ نے دشمن کو پچھاڑ لیا۔اس پر بیٹھ گئے اور قریب تھا کہ اس کو قتل کر دیتے۔اس نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔اور آپ علیحدہ ہو گئے۔اس نے کہا کہ ایسی حالت میں آپ نے مجھے چھوڑ کیوں دیا۔تو آپ نے فرمایا کہ اس لئے کہ پہلے میں تمہیں اسلام کے دشمن ہونے کی وجہ سے قتل کرنے لگا تھا۔اب تم نے میرے منہ پر تھوک دیا تو میری ذات اس میں شامل ہو گئی اور میں اپنے نفس کی خاطر کسی کو قتل کرنا نہیں چاہتا۔تو یہ اعلیٰ معیار ہیں جو ہمیں تاریخ میں نظر آتے ہیں جو ہمارے بزرگوں نے پیش کئے۔(ماخوذ از الفخری اصول ریاست اور تاریخ ملوک مؤلفہ محمد علی ابن علی مترجم مولانا محمد جعفر شاہ پھلواروی صفحه 68 مطبوعه اداره ثقافت اسلامیہ لاہور 2007ء) پس مومن کی تو یہ شان ہے کہ غصہ دبائے اور صلح کی طرف آمادہ ہو لیکن کافر کبھی یہ نہیں سوچ سکتا۔اور یہی وہ مومنانہ شان ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں تا کہ ہمارے ہر عمل سے اسلام کی حقیقی تعلیم کا اظہار ہو۔اس حقیقی تعلیم کا اظہار ہو جو عفو، درگزر اور صلح پھیلانے والی تعلیم ہے۔