خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 385 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 385

خطبات مسرور جلد 15 385 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اگست 2017 پھر بھی ہم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو معاف کرنے اور صلح کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تذلل بھی اختیار کرتے ہیں، صلح کے لئے ہر شرط کو قبول کر لیتے ہیں لیکن پھر بھی دوسرا فریق ظلم کا رویہ اپناتا ہے۔اگر حقیقت میں دوسرا فریق ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں تو پھر وہ اپنا معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ وہ کاٹا جائے گا اور پھر آگے یہ بھی فرمایا کہ "بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشا۔" کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 13) پس وہ لوگ جو ضد کرتے ہیں ان کے لئے بہت بڑا انذار ہے۔انہیں ہوش کرنی چاہئے۔ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم فساد نہیں کریں گے۔نفسانی جوشوں سے بچیں گے۔اور دوسری طرف صلح سے بھی گریز کرتے ہیں۔تو پھر یہ عہد بیعت سے ڈوری ہے۔عہد بیعت کو نبھانا نہیں ہے۔آپ علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ " ہماری جماعت کو ایسا ہونا چاہئے کہ نری لفاظی پر نہ رہے" لفظوں سے ہی اپنے آپ کو احمدی نہ ثابت کرتے رہیں۔فرمایا کہ " بلکہ بیعت کے بچے منشا کو پورا کرنے والی ہو۔" آپ نے فرمایا کہ اندرونی تبدیلی کرنی چاہئے۔صرف مسائل سے تم خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے۔"آپ فرماتے ہیں کہ "اگر اندرونی تبدیلی نہیں تو تم میں اور تمہارے غیر میں کچھ فرق نہیں۔" (ملفوظات جلد 8 صفحہ 188) پس آپ علیہ السلام نے بڑا واضح فرما دیا کہ بیعت کے منشاء کو پورا کئے بغیر اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حق کی ادائیگی اور صلح اور صفائی بھی ضروری ہے۔آپ اپنی حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے اور اس بات کا اظہار فرماتے ہوئے کہ آپ میں کتنی وسعت حوصلہ اور معاف کرنے کی طاقت ہے ، اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ "میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص جس نے مجھے ہزاروں مرتبہ دنجال اور کذاب کہا ہو اور میری مخالفت میں ہر طرح کوشش کی ہو اور وہ صلح کا طالب ہو تو میرے دل میں خیال بھی نہیں آتا اور نہیں آسکتا کہ اس نے مجھے کیا کہا تھا اور میرے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔پھر آپ نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ "میری نصیحت یہی ہے کہ دو باتوں کو یادرکھو۔ایک خدا تعالیٰ سے ڈرو۔دوسرے اپنے بھائیوں سے ایسی ہمدردی کرو جیسے اپنے نفس سے کرتے ہو۔" جو اپنے لئے چاہتے ہو یا خواہش ہے کہ تمہارے ساتھ دوسروں کی ہمدردی ہو ، وہی سلوک اپنے بھائیوں سے بھی رکھو۔فرمایا کہ "اگر کسی سے کوئی قصور اور غلطی سرزد ہو جاوے تو اسے معاف کرنا چاہئے نہ یہ کہ اس پر زیادہ زور دیا جاوے اور کینہ کشی کی