خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 384 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 384

خطبات مسرور جلد 15 384 33 خطبه جمعه فرموده مورخه 18 اگست 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 18 اگست 2017ء بمطابق 18 ظہور 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب کشتی نوح میں فرماتے ہیں کہ : " خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔" فرمایا " تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں۔وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔" فرمایا کہ "تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضگی جانے دو اور بچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلل "اختیار " کرو تاتم بخشے جاؤ۔" فرماتے ہیں "نفسانیت کی فربہی چھوڑ دو کہ جس دروازے کے لئے تم بلائے گئے ہو اس میں سے ایک فربہ انسان داخل نہیں ہو سکتا۔تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے۔" (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 12-13) یہ اقتباس مختلف تقریروں میں ، درسوں میں، اکثر جماعت کے افراد کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلّل اختیار کرنے کا فقرہ تو ایسا ہے جو اکثر احمدی مختلف اوقات میں بطور حوالہ پیش کرتے ہیں بلکہ آپس کے معاملات کی تفصیل پیش کرتے ہوئے مجھے بھی لکھتے ہیں کہ ہم نے تو ایسا رویہ اختیار کیا لیکن دوسرا فریق تب بھی ہمارے ساتھ ظالمانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔گزشتہ خطبہ میں میں نے قضا اور جھگڑوں کے مقدموں کے حوالے سے بھی کچھ باتیں کی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ جن کو آپ نے اپنی تعلیم میں شامل کیا ہے یہ آپ کی اپنے ماننے والوں سے توقعات اور ان کے لئے آپ کے دل کے درد کا اظہار ہے۔انسان جب کشتی نوح میں تعلیم کے مکمل حصہ کو پڑھتا ہے تو ہل کر رہ جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ چند الفاظ بھی بار بار ہمارے سامنے لائے جاتے ہیں۔لیکن