خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 383
خطبات مسرور جلد 15 383 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اگست 2017 لیکن فلاں کار مجھے بڑی پسند ہے اور پیسے نہیں ہیں۔کیا میں بنک سے قرض لے کر وہ کار خرید سکتا ہوں۔اگر ایک دفعہ انسان قرض لے لے تو پھر قرضوں میں دھنستا چلا جاتا ہے۔پس ان فضول خواہشات سے بچنا چاہئے۔اسی طرح بہت سارے لوگوں نے کاروبار کرنے شروع کئے۔کوئی تجربہ نہیں ہے۔نوجوان ہیں اور کاروبار کے نام پر لوگوں سے رقمیں لے لیں۔تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے سارا کاروبار ختم ہو گیا۔خود بھی محتاج ہو گئے اور لوگوں کے پیسے بھی لے ڈوبے۔تو ایسے لوگوں کو بھی احتیاط کرنی چاہئے اور دینے والوں کو بھی بجائے اس کے کہ بعد میں شکوے پیدا ہوں اور مقدمے کریں۔پہلے ہی سوچ سمجھ کر کسی کو قرضے دینے چاہئیں۔اگر کاروبار میں بھی لگانا ہے تو کیونکہ ان کی اپنی بھی رقم ڈوبتی ہے اور جس شخص کو دیا ہو تا ہے وہ بیچارہ بھی، بیچارہ تو نہیں ہو تا بعض دفعہ تو شرارت سے لوگ کر رہے ہوتے ہیں یا نیت ہی نیک نہیں ہوتی اور اس وجہ سے پھر مقدمہ بازی میں پھنس کے ذلیل و رسوا بھی ہوتے ہیں۔بہر حال ان چیزوں سے ہمیں بچنا چاہئے تاکہ ایک پر امن معاشرہ ہمارے اندر ہمیشہ قائم رہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیوں میں ایک حقیقی مومنانہ رنگ پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ایک پر امن معاشرہ ہم قائم کرنے والے ہوں اور جو اعلیٰ اخلاق ہیں، اخلاق کے اعلیٰ معیار ہیں جن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے توقع رکھی ہے جن کا قرآن کریم میں بھی ذکر ہے ، جن پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی توجہ دلائی ان کو ہم اپنانے والے ہوں۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ یکم ستمبر 2017 ء تا 07 ستمبر 2017ء جلد 24 شمارہ 35 صفحہ 0805)