خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 382 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 382

خطبات مسرور جلد 15 382 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اگست 2017 ہے۔چنانچہ ایک روایت ہے۔صحابی کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں کفر اور قرض سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! قرض کا معاملہ کفر کے برابر کیا جائے گا ؟ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں۔(سنن النسائی کتاب الاستعاذة باب الاستعاذة من الدين حديث 5475) اس بارے میں مزید وضاحت حضرت عائشہ کی ایک روایت سے بھی ملتی ہے۔آپؐ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں گناہوں اور قرض سے تیری پناہ چاہتاہوں۔کسی کہنے والے نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے قرض کے بارے میں کتنی ہی زیادہ پناہ طلب کرتے ہیں۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص جب مقروض ہو جاتا ہے تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے خلاف ورزی کرتا ہے۔(صحيح البخارى كتاب الأذان باب الدعاء قبل السلام حدیث (832) پس یہ وجہ ہے کہ پناہ مانگنی چاہئے اور براہ راست قرض لینے والے بھی حتی الوسع قرض لینے سے بچیں۔ان کو بچنا چاہئے اور اگر لے لیا ہے تو پھر ادا ئیگی کی فکر بھی کرنی چاہئے اور حقوق کی ادائیگی جو قرض کی طرح ہی ہے اس کی ادائیگی کی طرف بھی سنجیدگی سے توجہ دینی چاہئے۔قضا کے فیصلوں کے بعد اگر حقوق اور قرض معاف کروانے ہوں تو پھر فریق ثانی سے معاف کروانے چاہئیں۔جس کا حق ادا کرنا ہے وہی اپنا حق معاف کر سکتا ہے یا اس میں سہولت دے سکتا ہے۔پس افراد جماعت کو اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔قرضوں کی ادائیگی کے بارے میں حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نسخہ بتایا۔بہت سارے لوگ قرضوں کے بارے میں لکھتے ہیں تو وہ اس پر عمل کر کے دیکھیں۔آپ نے فرمایا کہ ایک تو استغفار بہت زیادہ کیا کرو۔دوسرے یہ کہ فضول خرچی چھوڑ دو۔اکثر قرضے لوگ اس لئے لیتے ہیں کہ فضول خرچی کر رہے ہوتے ہیں۔خواہشات بڑھا رہے ہوتے ہیں۔اور تیسرے آپ نے فرمایا کہ اگر ایک پیسہ بھی ملے تو قرض خواہ کو دے دو۔(ماخوذ از بدر جلد 11 نمبر 2,3 مورخہ 9 نومبر 1911 صفحہ 3) تھوڑی تھوڑی رقمیں بھی اگر کہیں سے تمہارے پاس آتی ہیں اور اپنے خرچ کرنے کے بعد جس حد تک تم اس کی ادائیگی کے متحمل ہو سکتے ہو تو وہ ادائیگی کرنے کی طرف توجہ کرو۔جمع کرتے جاؤ یا ویسے قسطوں میں ادا کرتے جاؤ۔بہر حال ایک فکر ہونی چاہئے کہ چھوٹی سے چھوٹی رقم بھی اگر آتی ہے، اس کو بچت ہوتی ہے اور اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کے بچت کرنی ہے ، تو اس سے قرض کی ادائیگی ہونی چاہئے۔بعض لوگ شوق میں قرض لے لیتے ہیں یہ فضول خرچی ہے۔کسی نے مجھے لکھا کہ میرے پاس کار تو ہے