خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 381
خطبات مسرور جلد 15 کوشش کروں گا۔381 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اگست 2017 (ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں بھی ہمیں ہدایت سے نوازا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دولت مند کا قرض ادانہ کرنے میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔اگر تم میں سے کسی کو ٹال مٹول کرنے والے کا پیچھا کرنے کو کہا جائے تو چاہئے کہ اس ٹال مٹول کرنے والے کا پیچھا کرے یعنی پھر مجبور کر کے اس سے دوسروں کا حق دلوایا جائے قرض ادا کر وایا جائے۔(صحيح البخارى كتاب الحوالات باب الحوالة وهل يرجع في الحوالة؟ حديث 2287) یہاں کوئی نرمی نہیں۔کسی سہولت کی ضرورت نہیں کیونکہ اس دوسرے فریق کو توفیق ہے۔بلکہ جیسا کہ میں نے کہا اگر یہ نہیں کریں گے تو اس سے تو غاصبوں کو اور حق مارنے والوں کو جرآت پید اہوتی چلی جائے گی۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ فرمایا کہ قرض ادا کرنے والے کا ٹال مٹول کرنا اس کی آبرو اور اس کی سزا کو حلال قرار دیتا ہے۔(سنن ابو داؤد کتاب القضاء باب في الدين هل يحبس به حديث 3628) پس نظام جماعت کا فرض ہے کہ ایسے حقوق غصب کرنے والوں کو اگر وہ تعاون نہیں کرتے تو سزا دے۔پس جب قضا کے فیصلوں کے مطابق تعمیل نہ کرنے والوں اور حق مارنے والوں کو سزا ملتی ہے تو پھر انہیں شور نہیں مچانا چاہئے کہ ہم سے نرمی کا سلوک نہیں کیا گیا۔اللہ تعالیٰ کے رسول نے اسے سزا دیے جانے کا حق نظامِ جماعت کو دیا ہے۔ملکی قانون بھی ایسے لوگوں کو سزا دیتا ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بڑے انذار کا اور خوف دلانے والا ارشاد ہے جو آپ نے حق ادانہ کرنے والوں کو فرمایا ہے اگر حق مارنے والے اسے اپنے سامنے رکھیں تو کبھی کسی کا حق مارنے کا نہ سوچیں۔آپ نے فرمایا کہ جس شخص نے لوگوں سے واپسی کرنے کی نیت سے مال لیا یا قرض لیا اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا ئیگی کروا دے گا اور فرمایا کہ جو شخص مال کھانے اور تلف کرنے کی نیت سے لے گا اللہ تعالیٰ اسے تلف کر دے گا۔(صحيح البخاري كتاب في الاستقراض واداء الديون۔۔۔۔الخ باب من اخذ اموال الناس يريد اداء ها أو اتلافها حدیث 2387) پس اگر نیت نیک ہو تو اللہ تعالیٰ وسائل اور ذرائع پیدا فرما دیتا ہے یا قرض دینے والے کے دل میں نرمی کے جذبات پیدا کر دیتا ہے۔لیکن اگر نیت ہی نیک نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اسے سزا دیتا ہے۔آنحضرت صلی للی کم تو عموماً ایسے شخص کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جس کے ذمہ قرض ہو اور اس کی جائیداد یا موجو در قم اس قرض کی ادائیگی کی کفایت نہ کرتی ہو۔(صحيح البخاری کتاب الحوالات باب ان احال دین الميت على رجل جاز حديث 2289) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرض سے بچنے کی دعا بھی کیا کرتے تھے بلکہ قرض اور کفر کو آپ نے ملایا