خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 12 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 12

خطبات مسرور جلد 15 12 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017 ان کے دادا حضرت علی احمد صاحب جو تھے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔صحابی تھے۔ان کی بیعت کا واقعہ مکرمہ امۃ النور صاحبہ بیان کرتی ہیں۔کہتی ہیں کہ ہم نے سنا ہوا ہے کہ وہ قادیان آئے تو نویں کلاس میں زیر تعلیم تھے۔قادیان جاتے ہوئے امر تسر ریلوے سٹیشن پر مولوی محمد حسین بٹالوی نے ان کو روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے مولوی صاحب کو جواب دیا کہ میری والدہ نے سورج چاند گرہن کا نشان پورا ہونے پر مجھے تحقیق کے لئے قادیان بھجوایا ہے اور آپ کے اس عمل سے مجھے مرزا صاحب کی صداقت واضح ہوئی ہے کہ آپ جیسا اتنابڑا مولوی کیوں کسی جھوٹے نبی کے دعویدار کے لئے اتنا وقت ضائع کرے گا۔آپ کا یہ پھر نا اور وقت ضائع کرنا ہی بتاتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب سچے ہیں۔6 جنوری 1964ء کو اسماء صاحبہ کی شادی مرزا خلیل احمد صاحب سے ہوئی۔مرزا خلیل احمد صاحب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بیٹے اور حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے نواسے تھے۔حضرت صاحبزادی امتہ الحئی صاحبہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔مکرمہ اسماء طاہرہ صاحبہ کو جنرل سیکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے طور پر، پھر سیکر ٹری ضیافت لجنہ مرکزیہ کے طور پر، پھر ممبر عالمگیر تبلیغ منصوبہ کمیٹی کے طور پر، پھر مقامی لجنہ میں بھی کام کرنے کی توفیق ملی۔اسماء طاہرہ صاحبہ کے والد 1975ء میں وفات پاگئے تھے۔اس کے بعد ان کی والدہ ان کے ساتھ رہیں اور اسماء طاہرہ صاحبہ میری ممانی تھیں۔اس لحاظ سے مجھے بھی ان کے بارہ میں بہر حال پتا ہے کہ سسرال میں اور اپنی نندوں سے اور رشتہ داروں سے اور عزیزوں سے ان کا بہت پیار اور محبت کا تعلق تھا۔بیماری کے دنوں میں مل کے آیا ہوں آجکل کینیڈا میں تھیں ان کی بیماری کی ایسی حالت تھی کہ جب میں گیا ہوں اور ملا ہوں تو ہل نہیں سکتی تھیں لیکن اس وقت بھی ان کی عاجزی کا یہ حال تھا کہ انہوں نے کہا کہ میرے کپڑے نکال کے رکھو۔تیاری کرو، اور میرا کہا کہ شاید وہ مجھے ملاقات کے لئے بلا لیں۔بجائے اس کے کہ مجھے پیغام بھیجتیں کہ ملاقات کے لئے آؤ۔یہ اس امید تھیں کہ میں ان کو وہاں بلاؤں گا۔بہر حال میں مل کے آیا۔اس لحاظ سے بڑی خوش ہوئیں۔ان کی اولاد کوئی نہیں تھی۔ان کی بہن کی ایک بیٹی تھی جو انہوں نے پالی جو پانچ سال کی عمر میں آگئی۔وہ کہتی ہیں کہ مجھے بالکل اپنے بچوں کی طرح پالا اور شادی کے وقت بھی میرے پورے شادی کے لوازمات پورے کئے۔میری تربیت میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔جب میں پریشان ہوتی مجھے دعا کے لئے کہتیں کہ دعا کرو انشاء اللہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔دعاؤں پر بڑا یقین تھا۔بچوں سے بڑا پیار تھا۔ان کی تربیت کا خاص طور پر خیال رکھتی تھیں اور کہا کرتی تھیں کہ بچوں کو مسجد لے کر جایا کرو کیونکہ مسجد میں ان کو مصروف رکھو گی تو بچے کبھی بگڑیں گے نہیں اور ضائع نہیں ہوں گے۔جماعت سے وابستہ رہنے کی ہمیشہ تلقین کرتی تھیں۔یہ بچی کہتی ہے کہ مجھے وصیت کرنے کی بھی تلقین کی اور ہمیشہ اس کی تلقین