خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 380
خطبات مسرور جلد 15 380 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اگست 2017 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارشادات پیش کر تا ہوں۔آپ ایک موقع پر آپس کے معاملات میں نرمی پیدا کرنے والے کو دعا دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ آسانی پیدا کرنے والے آدمی پر رحم فرمائے جب وہ خرید و فروخت کرتا ہے اور جب وہ قرضے کی واپسی کا تقاضا کرتا ہے۔(صحيح البخارى كتاب البيوع باب السهولة والسماحة في الشراء والبيع۔۔۔الخ حديث 2076) پھر آپ نے آسانیاں پیدا کرنے والوں کو خوشخبری دیتے ہوئے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جنت میں داخل کیا جو خریدتے وقت اور بیچتے وقت اور قرض دیتے وقت اور قرض کا تقاضا کرتے وقت آسانی پیدا کرتا تھا۔اس بات پہ ہی اس کو جنت میں داخل کیا۔(صحیح البخاری کتاب احاديث الانبياء باب ما ذكر عن بنى اسرائيل حديث 3451) پھر ایک روایت میں آتا ہے آپ نے فرمایا کہ جس شخص نے تنگ دست مقروض کو قرضہ کی ادائیگی میں مہلت دی یا معاف کر دیا تو قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے عرش کے نیچے سایہ عطا فرمائے گا۔(سنن الترمذی ابواب البيوع باب ما جاء فى انظار المعسر والرفق به حدیث 1306) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بخشش کے سلوک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔اگر وہ کسی تنگ دست شخص کو دیکھتا تو اپنے ملازموں کو کہتا کہ اس سے صرفِ نظر کرو۔شاید اللہ تعالیٰ ہم سے بھی صرف نظر فرمائے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ چنانچہ اس کے اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس سے صرفِ نظر فرمایا۔(صحيح البخارى كتاب البيوع باب من انظر معسرا حدیث 2078) پس جن کو توفیق ہو ان کو چاہئے کہ جس حد تک ممکن ہو سہولت مہیا کریں بجائے اس کے کہ لڑائی جھگڑوں اور عدالتوں میں فضول وقت ضائع کریں اور رقم خرچ کریں۔لیکن اسلام صرف یہی نہیں کہتا کہ قرض دینے والے اور حق لینے والے یہ سہولتیں دیں۔اسلام ایک ایسا معاشرہ قائم کرتا ہے اور ہر ایک فریق کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہے جس سے دلوں کی نفرتیں دور ہوں اور امن بھی قائم ہو۔اس لئے جس کے ذمہ حق کی ادا ئیگی ہے انہیں بھی بڑی تلقین کرتا ہے۔اب حضرت مصلح موعودؓ نے جو مثال دی اور بہت سی مثالیں سامنے آجاتی ہیں کہ لوگ بغیر کسی مجبوری کے حق کی ادائیگی میں لیت و لعل سے کام لیتے ہیں اور ایسے لوگوں کا کبھی نظام ساتھ نہیں دیتا اور نہ دے سکتا ہے۔اگر ایسے لوگوں کا ساتھ دینے لگ جائیں تو پھر حقوق غصب کرنے والوں کو کھلی چھٹی مل جائے گی اور امن کے بجائے معاشرے میں فتنہ وفساد بر پا ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شرائط بیعت میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ فساد سے بچنے کی