خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 379
خطبات مسرور جلد 15 379 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اگست 2017 ہیں اسے تنگ کرنا میری غلطی ہے لیکن آپ اس کرایہ دار سے بھی تو پوچھیں کہ اس نے گزشتہ آٹھ نو ماہ سے میرا کرایہ نہیں دیا جس کی وجہ سے میں نے سوچاہے کہ اس سے گھر خالی کروالوں۔حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ اس پر میں نے اس مالک مکان سے کہا کہ یہ معقول وجہ ہے اور تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔اسی کا ہے جو اپنا مقدمہ پیش کر رہا ہے اور یہ بھی نہیں بتارہا کہ میں نے اتنے مہینے سے کرایہ بھی نہیں دیا۔آپ فرماتے ہیں کہ اس وقت میری عجیب حالت تھی کہ میں نے جو مالک مکان تھا اس کے دل کو نرم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے ایک ایسی بات کر دی جس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔اگر دوسرے فریق نے کرایہ ادا کیا ہو تا تو فرماتے ہیں کہ میں نے میدان مار لیا تھا۔پھر میں جو فیصلہ کرنا چاہتا تھا وہ ہو جاتا لیکن اس نے تو کرایہ بھی ادا نہیں کیا تھا اور پھر قبضہ بھی جمائے رکھنا چاہتا تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ میری حالت اس وقت ویسی ہی ہو گئی جیسے کہتے ہیں کہ ایک پٹھان تھا اس نے کہیں سے سن لیا کہ اگر کسی کو کلمہ پڑھایا جائے تو انسان جنت میں چلا جاتا ہے۔اس نے ایک ہندو کو پکڑ لیا کہ کلمہ پڑھو۔ہندو نے کہا کہ میں ہندو ہوں۔مجھے کلمہ سے کیا غرض ہے۔اس نے کہا نہیں پڑھو اور تلوار نکال لی کہ ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا۔آخر ہندو نے کہا اچھا پڑھاؤ مجھے کلمہ۔پٹھان کہنے لگا تم خود پڑھو۔میں نے نہیں پڑھانا۔ہندو کہنے لگا میں کس طرح پڑھ سکتا ہوں مجھے کیا پتا کلمہ کیا چیز ہے۔تم مسلمان ہو تم مجھے پڑھاؤ تمہیں آتا ہو گا۔پٹھان کہنے لگا مجھے تو نہیں آتا۔آج قسمت خراب ہے ورنہ آج میں نے تمہیں کلمہ پڑھا کے جنت میں چلے جانا تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ اسی طرح میں نے نصیحت کر کے مالک مکان کا دل نرم کیا۔جب دل نرم ہو گیا تو اس نے ایسی بات کی کہ میرا کلمہ وہیں کا وہیں رہ گیا۔اگر دوسرے فریق نے کرایہ ادا کیا ہو تا، حق نہ مارا ہو تا تو میں مالک کو کلمہ پڑھا لیتا۔(ماخوذ از مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 220-221) پس مومنوں کو ایک دوسرے کا حق ادا کرنے میں چستی دکھانی چاہئے۔اور یہ صرف ایک واقعہ نہیں اکثر واقعات ہیں۔اس لئے جب معاملات قضا میں بھی آتے ہیں یا خلیفہ وقت کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تو ساری بات سچائی پر مبنی ہونی چاہئے بجائے اس کے کہ اپنی بات کر کے بعد میں خلیفہ وقت کو شرمندہ ہونا پڑے۔اس کو شرمندگی سے بھی بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔آج جیسا کہ میں نے کہا بہت سے معاملات ایسے بھی ہیں کہ حق لینے والے کے رویے کو ہم نرم کر بھی لیں تو حق دینے والے کا رویہ معاملہ آگے نہیں بڑھنے دیتا اور پھر یہ بھی شکوہ ہوتا ہے کہ ہمارے ساتھ نرمی نہیں کی گئی۔اس حوالے سے کہ حسین معاشرے کے قیام کے لئے کیسی باتیں ہونی چاہئیں ؟ کس قسم کا حسین معاشرہ ہو نا چاہئے ؟ مسلمانوں میں دونوں طرف جو فریقین ہیں ان کو کس طرح اپنے حق ادا کرنے چاہئیں ؟ اس سلسلہ میں