خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 376
خطبات مسرور جلد 15 376 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اگست 2017 اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ فرمایا کہ صدقہ و خیرات تمہاری بلاؤں اور مشکلات کو اور مصیبتوں کو دور کرتے ہیں۔(کنز العمال جلد 6 صفحہ 148 حدیث 15978 مطبوعہ دار الكتب العلمیة بیروت 2004ء) پس کیا ہی اعلیٰ سودا ہے کہ اپنے بھائی کو سہولت دینا ثواب کا مستحق بھی بنا رہا ہے اور بہت سی بلاؤں اور مشکلوں سے بھی ہمیں بچا رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ تھوڑی سی بھی نیکی کو اجر کے بغیر نہیں چھوڑتا۔اگر ہم قرآن کریم کی اس سنہری ہدایت کو یاد رکھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو سامنے رکھیں تو ایک پر امن معاشرے کا قیام عمل میں آئے۔بے چینیاں پھر نہ پھیلیں۔کبھی رنجشیں لمبی نہ چلتی چلی جائیں۔فیصلوں پر عمل درآمد کرانے والے اداروں کا بھی حرج نہ ہو۔وہ ان جھگڑوں کو نپٹانے کی بجائے کسی تعمیری کام کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔قضا کا بھی حرج نہ ہو گو قضا اسی مقصد کے لئے بنائی گئی ہے کہ فیصلے ہوں لیکن اگر فیصلوں کو ماننے میں دونوں فریق نرمی کا رویہ رکھیں تو بلا وجہ کا حرج نہ ہو۔اور بعض دفعہ ایک ہی معاملے کے لمبا چلنے کی وجہ سے بعض دوسرے معاملات متاثر ہوتے ہیں وہ متاثر نہ ہوں اور خود فریقین کو جو قضا میں آنے یا عدالتوں میں جانے اور وکیل کرنے کے اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں ان سے بھی بچت ہو جائے۔بعض دفعہ تو ایسے ضدی ہوتے ہیں کہ وہ اپنا نقصان برداشت کر لیتے ہیں لیکن یہی چاہتے ہیں کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہو اور اس کے لئے جہاں تک جایا جا سکتا ہے جایا جائے۔اور پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ بعض لوگ، بعض فریق مجھے بھی لکھتے ہیں کہ اب آپ اس معاملے کو دیکھیں۔سو اگر ضدمیں نہ ہوں، انائیں نہ ہوں تو پھر میرا وقت بھی ان فضولیات میں ضائع ہونے سے بچ جائے۔میں بعض دفعہ معاملات دیکھنے کے بعد جب فریقین کو جواب دیتا ہوں لیکن اگر ان کی مرضی کا جواب نہیں ہوتا تو پھر بھی وہ اپنی بات پر ، ضد پر قائم رہتے ہیں، اڑے رہتے ہیں کہ نہیں ہم ہی ٹھیک ہیں اور یہی ضد ہوتی ہے کہ فیصلہ بھی ہمارے حق میں ہو اور سہولت بھی ہم نے دوسرے فریق کو کوئی نہیں دینی۔میرے واضح طور پر لکھنے کے باوجود بعض دفعہ نہایت ڈھٹائی سے تیسرے چوتھے مہینے خط لکھ جاتے ہیں کہ ہم نے اپنے معاملے کے بارے میں لکھا تھا اور ہم حق پر ہیں اس دفعہ فیصلہ کو دوبارہ دیکھا جائے اور ہمیں ہمارا حق دلوایا جائے۔میں یہ نہیں کہتا کہ قضا کے فیصلے سو فیصد درست ہوتے ہیں لیکن اتنی پچاسی فیصد بہر حال درست ہوتے ہیں اور جو شواہد اور ثبوت پیش کئے جاتے ہیں ان کی روشنی میں وہ صحیح ہوتے ہیں۔اگر غلط بھی ہوتے ہیں تو نیت پر شبہ نہیں کیا جاسکتا۔اپنی طرف سے نیک نیتی سے یہ لوگ فیصلے کرتے ہیں۔پس اگر ایک فریق کے خیال میں اس کا حق بنتا ہے لیکن فیصلہ اس کے خلاف ہو جاتا ہے تو اس پر قضا پر یا قاضی پر الزام نہیں لگانا چاہئے۔بعض لوگوں کو یہ الزام