خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 377 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 377

خطبات مسرور جلد 15 377 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اگست 2017 لگانے کی عادت بھی پڑ جاتی ہے۔انہوں نے حقائق کے مطابق ہی فیصلہ کیا ہوتا ہے۔اگر کسی فیصلہ میں کوئی ابہام ہو یا دوسرے فریق کے خیال میں اس فیصلہ میں ابہام ہے تو اس فریق کی درخواست پر بعض دفعہ میں بھی فائل منگوا کر دیکھ لیتا ہوں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ اکثر فیصلے صحیح ہوتے ہیں اور صرف بدظنیوں کی وجہ سے شکوک و شبہات دل میں پیدا کئے جاتے ہیں۔پس بدظنیوں سے بچنا چاہئے۔بد ظنی پھر ایک اور برائی کا راستہ کھول دیتی ہے۔قضا کے معاملات براہ راست لین دین کے ہوں، کاروباری ہوں یا عائلی ہوں، ہر معاملے میں وہ براہ راست یا بالواسطہ مالی لین دین کا معاملہ بن جاتا ہے۔کہیں حق مہر کی ادائیگی ہے۔کہیں سامان کی ادائیگی ہے میاں بیوی کے جھگڑوں میں اور لین دین کے معاملوں میں تو اکثر دفعہ مالی معاملات ہی ہوتے ہیں۔تو بہر حال مالی معاملات ہر جھگڑے میں کسی نہ کسی ذریعہ سے involve ہو جاتے ہیں اور سہولت دینے والا جو اصول ہے کہ سہولت دی جائے یہ ہر جگہ کچھ نہ کچھ حد تک ضرور چلتا ہے۔عائلی معاملات میں بھی نقد رقم کا مطالبہ ، لین دین کے معاملات میں بھی اکثر رقم کا مطالبہ ہوتا ہے۔عائلی معاملات میں مثلاً جیسا کہ میں نے کہا حق مہر کی ادائیگی ہے۔یہ بھی یقیناً ایک قرض ہے جو خاوند کے ذمہ ہے۔لیکن بسا اوقات لڑکی والے لڑکے کی حیثیت سے زیادہ حق مہر بھی رکھوا لیتے ہیں۔ایک طرف تو لڑ کا پابند ہے کہ قرض کو ادا کرے۔حق مہر ایک قرض ہے۔دوسری طرف لڑکی والے بھی زیادتی کر جاتے ہیں کہ حق مہر زیادہ رکھوا لیتے ہیں تا کہ کسی طرح لڑکے کو باندھ لیا جائے جو لڑکے کے لئے ادا کرنا مشکل ہوتا ہے اور صرف مشکل نہیں ہو تا بلکہ دوسرا فریق اس کو ادا کرنے کی توفیق ہی نہیں رکھتا۔اگر قضا لڑ کے کے حالات کو دیکھ کر حق مہر کم کر دے تو اس پر بھی فریق ثانی کو اعتراض شروع ہو جاتا ہے۔اسی طرح براہ راست قرض کے لین دین کے معاملات ہیں۔ان میں اگر قضا حالات دیکھ کر قسطیں مقرر کر دے تو اس پر بھی دوسرے فریق کو اعتراض ہو جاتا ہے۔ہم احمدی ایک پُر امن معاشرے کے بارے میں جب دنیا کو کہتے ہیں تو ہمیں بھی اپنے ہر معاملے میں معاشرے میں امن قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔صحابہ آپس کے معاملات میں کیسے رویے رکھتے تھے اس کی ایک جھلک ایک واقعہ سے ملتی ہے۔حضرت ابو قتادۃ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مسلمان کے ذمہ ان کا کچھ قرض تھا۔جب بھی یہ اس کے پاس قرض کا تقاضا کرنے جاتے تو وہ چھپ جایا کرتا تھا۔ایک دن یہ گئے تو اس کے بیٹے سے پتا چلا کہ وہ گھر میں ہی ہے۔انہوں نے باہر سے آواز دی اور کہا کہ مجھے پتا چل گیا ہے کہ تم گھر میں ہی ہو۔اس لئے اب چھپنا بے فائدہ ہے۔باہر آؤ اور مجھ سے بات کرو۔جب وہ شخص باہر آیا تو انہوں نے اس سے چھپنے کی وجہ معلوم کی تو اس نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ میں آجکل بہت زیادہ تنگ دست ہوں۔میرے مالی حالات بڑے بڑے ہیں۔میرے پاس کچھ نہیں