خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 375 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 375

375 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اگست 2017 خطبات مسرور جلد 15 نہیں پہنچتا۔ایک عدالت کے بعد دوسری عدالت میں اپیلیں ہوتی رہتی ہیں اور پھر اگر قضا میں آئے ہوئے فریق کا پانچ رکنی قضا کا بورڈ بھی فیصلہ کر دے تو پھر بھی جس کے ذمہ حق بنتا ہے بعض دفعہ وہ حق مار جاتا ہے اور حق نہیں دیتا یا فیصلہ تسلیم نہیں کرتا ہے یا پھر مجھے لکھ دیتے ہیں کہ ہم پر بڑا ظلم ہوا ہے آپ خود اس معاملے کو دیکھیں۔اور یہ شکوے کبھی ختم نہیں ہوتے۔اور حقیقت میں جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ اظہار آنا اور ضد کی وجہ سے ہوتا ہے۔پس اگر جھگڑوں کو ہم نے احسن رنگ میں نپٹانا ہے تو ضدوں کو چھوڑنے کی ضرورت ہے بلکہ بعض اوقات جھگڑوں کو ختم کرنے کے لئے حق اگر بنتا بھی ہے تو اس حق کے لینے میں دوسرے فریق کو سہولت دینے کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض دفعہ کچھ حد تک حق چھوڑنا بھی پڑ جاتا ہے۔اس بارے میں اللہ تعالیٰ ہمیں کیا تعلیم دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرة: 281)۔اور اگر کوئی تنگ حال ہو کر آئے تو آسائش ہونے تک اسے مہلت دینی چاہئے اور اگر تم اپنے قرض معاف کر دو، خیرات کر دو تو یہ بہت اچھا ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔تمہیں پتا ہونا چاہئے کہ تم پر بھی ایسے حالات آسکتے ہیں جب مجبوریاں ہوں۔اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے بہت سے معاملات میں چھوٹ دیتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ جو تمام طاقتوں کا مالک ہے ہمیں ہمارے معاملات میں پکڑنے لگ جائے تو ہمارا کوئی ٹھکانہ نہ رہے۔پس ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے معاملات میں نرمی اور سہولت کا سلوک کریں۔یہ ایک اصولی ہدایت ہے روز مرہ کے معاملات میں بھی، کاروباروں کے معاملات میں بھی، قرضوں کے لین دین کے معاملات میں بھی یہ چیزیں ہمیشہ یادر کھنی چاہئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مومنوں کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ تم دنیا میں رحم اور نرمی سے کام لو تو آسمان پر خدا تعالیٰ بھی تم سے رحم کا سلوک کرے گا۔(سنن ابو داؤد کتاب الأدب باب في الرحمة حيث 4941) ور نہ ہمیں ہر وقت یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا بھی ایک دن حساب ہو گا۔اگر اللہ تعالیٰ صرف حق پر فیصلہ کرنے لگے تو بخشش بڑی مشکل ہو جائے۔پس اللہ تعالیٰ کے رحم اور بخشش کو جذب کرنے کے لئے ہمیں دنیا میں اپنے معاملات میں نرمی اور رحم کا سلوک ایک دوسرے سے کرنا چاہئے نہ کہ صرف سختی اور پکڑ اور صرف اپنے حق کی فکر ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قرض وصول کرنے والوں کو قرض دینے والے سے نرمی کا سلوک کرنے پر ثواب کی خوشخبری دی ہے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی سے قرض کی رقم لینی ہو اور وہ اس کو مقررہ میعاد گزرنے کے بعد مہلت دیتا ہے تو ہر وہ دن جو مہلت کا گزرتا ہے وہ اس کے لئے صدقہ ہو گا۔(سنن ابن ماجه كتاب الصدقات باب انظار المعسر حدیث 2418)