خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 374 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 374

خطبات مسرور جلد 15 374 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اگست 2017 بلکہ ان کی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔اپنے اخلاق کے معیار بڑھا سکتے ہیں، اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ہم جائزہ لیں تو ہمارے اندر بھی ایک قابل فکر تعداد ایسی ہے جو باوجو د بیعت کے عہد کے ان باتوں پر عمل نہیں کرتی۔جب تک ہم ذاتی طور پر ایسی صور تحال سے نہیں گزرتے جہاں ہمیں اپنے حقوق قربان کر کے یا اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر اپنے اعلیٰ اخلاق کو اختیار کرنا ہو، ہم بڑے زور و شور سے یہ کہتے ہیں کہ یقیناً ان اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہمیں کرنا چاہئے اور جو یہ نہیں کرتا وہ بڑا ظلم کرتا ہے۔لیکن جب ہم براہ راست متاثر ہو رہے ہوں تو ہم میں سے اکثریت ان اخلاق کو بھول جاتی ہے۔اگر ضرورت پڑتی ہے تو اپنی بات کو اس طرح توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں کہ اس میں سچائی نہیں رہتی بلکہ وہ جھوٹ کے قریب پہنچ جاتی ہے۔اپنے حق کے حاصل کرنے کے لئے بعض دفعہ ظلم بھی کر جاتے ہیں۔بعض لوگ بعض دفعہ خیانت کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور جھوٹی گواہیاں اپنے آپ کو خیانت سے بچانے کے لئے پیش کر دیتے ہیں۔اگر ہاتھ سے نہیں تو زبان سے تو اکثر اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے دوسروں کو تکلیف دے دیتے ہیں۔عاجزی دکھانے کی بجائے آنا غالب آجاتی ہے اور بسا اوقات تکبر کا کم یازیادہ اظہار بھی ہو جاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ قضا کے بعض معاملات جب میرے سامنے آتے ہیں تو جھوٹ اور سچ کو ثابت کرنے کی بجائے، حق لینے کی بجائے، ہٹ دھرمی اور ضد کا ایسا اظہار ہوتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔کاروباروں میں سچائی پر بنیاد کی بجائے ذاتی مفادات حاصل کرنے کی طرف زیادہ توجہ رہتی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ فریقین نے جو وکیل کئے ہوتے ہیں وہ اپنی پیشہ وارانہ مہارت دکھانے کے لئے اور اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش میں ایسی غلط بیانیاں کرتے ہیں جو جھوٹ ہوتا ہے۔چاہے وہ لین دین کے معاملات ہوں یا میاں بیوی کے جھگڑے کے یا کسی بھی قسم کے معاملات ہوں وکیلوں کی وجہ سے طول پکڑ جاتے ہیں۔پس احمدی و کیلوں کو بھی چاہئے اور فریقین کو بھی کہ وہ اپنے عہد بیعت اور اللہ تعالیٰ کے خوف کو اپنے مفادات پر ترجیح دیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ جھگڑے ہوتے ہی اس وقت ہیں جب صحیح طور پر یا غلط، جائز یا ناجائز شکوے اور شکایتیں پیدا ہونی شروع ہوتی ہیں، بدظنیاں پیدا ہونی شروع ہوتی ہیں، ایسے وقت میں ایک مومن کا کام ہے کہ جھگڑوں کو طول دینے کی بجائے، اپنی ضدوں پر اڑنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے اندر نرمی پیدا کر کے جماعتی نظام یا قضا میں اپنے معاملات لائیں اور کوشش یہ ہو کہ ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ہم نے ان غلط فہمیوں یا جائز نا جائز شکایتوں کو دور کر کے آپس میں پیار اور محبت سے زندگی گزارنی ہے۔لیکن اگر جس کے ذمہ حق بنتا ہے اور جس کا حق بنتا ہے دونوں ضدی طبیعت کے مالک ہوں تو پھر چاہے جماعتی نظام ہے یا قضا ہے یا ملکی عدالت بھی ہے یہ سب جیسے بھی انصاف پر مبنی فیصلہ کریں کبھی بھی معاملہ انجام کو