خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 371
خطبات مسرور جلد 15 371 عه فرموده مورخه 04 اگست 2017 کے چلا جاتا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے والدین کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔تیسرا جنازہ مکرم شکیل احمد منیر صاحب کا ہے جو آسٹریلیا کے سابق مشنری انچارج تھے اور اس وقت کراچی میں تھے۔31 جولائی کو پچاسی سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔ان کو قرآن کریم کا ماؤری (Maori) زبان میں ترجمہ کرنے کی توفیق بھی ملی۔صوبہ بہار کے مو گھیر انڈیا کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد صاحب حکیم خلیل احمد صاحب بہار کے ابتدائی احمدیوں میں سے تھے جنہوں نے 1906ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی تھی لیکن دستی بیعت نہیں کر سکے۔اور ان کے والد صاحب کو بھی ناظر تعلیم قادیان کے طور پر دس سال خدمت کی توفیق ملی۔مکرم شکیل منیر صاحب نے ابتدائی تعلیم تعلیم الاسلام کالج قادیان اور لاہور سے حاصل کی۔پھر ڈھاکہ سے ایم ایس سی فزکس کی ڈگری حاصل کی۔پھر تعلیم کے شعبہ سے منسلک ہو گئے۔ملازمت کا لمبا عرصہ مغربی افریقہ کے ممالک میں گزارا۔اس دوران خدمت دین بھی بجالاتے رہے۔نائیجیریا کی فیڈرل منسٹری آف ایجو کیشن میں چیف ایجو کیشن آفیسر کے طور پر بھی کام کیا۔احمد یہ مشن واری (Wari) نائیجیریا کی مشرقی ریاستوں کے آٹھ سال تک ریجنل صدر رہے اور انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے نصرت جہاں اکیڈمی وا(Wa) کا آغاز کیا جو کہ نصرت جہاں سکیم کے تحت بننے والا، جاری ہونے والا پہلا سکول، کالج اور ادارہ تھا۔آپ کو تبلیغ کا بھی بڑا شوق تھا۔نائیجیریا میں دو نہایت کامیاب بین المذاہب سمپوزیم کا بھی انعقاد کروایا۔اس قیام کے دوران آپ نے اسلام اور عیسائیت پر کئی کتابیں بھی لکھیں۔ان کی بعض کتابیں جو انہوں نے لکھیں یہ ہیں Islam in Spain، The reform taleem-el-islam course Shroud and other discoveries about Jesus book اور نائیجیریا میں اپنے خرچ پر ایک مشن ہاؤس بھی انہوں نے بنوایا۔ایک رؤیا کے نتیجہ میں انہوں نے پھر اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کر دیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ان کا وقف منظور فرمایا اور ان کو آسٹریلیا کا پہلا امیر اور مشنری انچارج مقرر فرمایا۔چنانچہ 5 جولائی 1985ء کو آسٹریلیا تشریف لے گئے۔آسٹریلیا میں ان کے لئے ویزہ لینے کی مشکلات تھیں۔مسلمان مبلغ کو ویزہ نہیں دیتے تھے۔بہر حال وہاں ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب کی کوششوں سے یہ ویزہ بھی ان کو مل گیا اور انہوں نے کام شروع کیا۔آسٹریلیا کی جو مسجد بیت الہدی ہے اور بڑی خوبصورت مسجد ہے اس کی تعمیر میں ان کا بہت ہاتھ ہے۔30 ستمبر 1983ء کو اس مسجد کا سنگ بنیاد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے رکھا تھا پھر اس کی تعمیر با وجو د مالی حالات اچھے نہ ہونے کے بڑی محنت سے انہوں نے کروائی۔وقار عمل کے ذریعہ سے بہت سے کام کئے۔خود بھی وقار عمل کئے بلکہ کام کے دوران ایک دفعہ سیڑھی سے گر گئے اور ان کے بازو کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی لیکن پھر بھی انہوں نے مسجد کی تعمیر کا کام جاری رکھا اور ایک بہت خوبصورت اور بڑی مسجد وہاں بن گئی ہے۔خود اس وقت