خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 372
خطبات مسرور جلد 15 372 جمعه فرمودہ مورخہ 04 اگست 2017 جب یہ گئے ہیں تو وہاں کوئی جگہ نہیں تھی۔جہاں جماعت نے زمین خریدی تھی وہاں ایک ٹین کا شیڈ تھا۔اس شیڈ میں ہی ایک حصہ میں نماز ہوتی تھی اور دوسرے حصہ میں ٹین کی چھت ڈال کے اور کپڑے کی چھت ڈال کے یہ دونوں میاں بیوی رہتے رہے۔انہوں نے وہاں گزارہ کیا اور بڑی قربانی کی ہے۔1991ء میں ان کی تقرری پھر نائیجیریا میں ہوئی اور الارو ( llaro) میں بطور پرنسپل جامعہ احمد یہ خدمات بجالاتے رہے۔1989ء میں جب جماعت احمدیہ کی صد سالہ جو بلی ہوئی ہے تو اس وقت حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے قرآن کریم کی منتخب آیات کا دنیا کی سوزبانوں میں ترجمہ کرنے کی تحریک کی تھی۔آسٹریلیا کے ذمہ ماؤری زبان کا ترجمہ سونپا گیا تھا۔جو ترجمہ اس وقت کروایا گیا اس کا معیار جب دیکھا گیا تو وہ اچھا نہیں تھا بلکہ وہ کہتے ہیں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ترجمہ جس سے ماؤری میں کروایا گیا تھا اس نے لکھا ہوا تھا In the name of Jesus۔تو انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کو کہا کہ یہ ترجمہ تو صحیح نہیں ہے۔پھر اس بڑھاپے میں انہوں نے خود زبان سیکھی۔بڑی عمر میں زبان بھی سیکھی اور ترجمہ بھی مکمل کیا اور 2013ء میں جب میں نیوزی لینڈ گیا ہوں تو ماؤری قرآن کریم کا ترجمہ مکمل طور پر وہاں کے ماؤری بادشاہ کو پیش کیا گیا۔اس تقریب میں بھی یہ شامل تھے۔بڑے عاجز انسان اور بے نفس انسان تھے۔نہ علمی بڑائی کا کوئی احساس تھا، نہ یہ احساس کہ میں نے قرآن شریف کا ترجمہ کیا ہے تو میرا کوئی مقام ہونا چاہئے۔دنیا بھی انہوں نے کافی کمائی اور بغیر الاؤنس کے یہ مشنری کا کام انجام دیتے رہے۔اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی اہلیہ کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔آئندہ بھی اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کرنے والے ایسے مشنری دیتا رہے جو ہر لحاظ سے بے نفس اور عاجز ہوں۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 25 اگست 2017 ء تا 31 اگست 2017ء جلد 24 شمارہ 4 3 صفحہ 05 تا09)