خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 370 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 370

خطبات مسرور جلد 15 370 عه فرموده مورخه 04 اگست 2017 بچوں کے بارے میں جو ایک مضمون لکھا اس میں ان کی بہت تعریف کی کہ نواب عبد اللہ خانصاحب فوت ہو گئے تو خاص طور پر انہوں نے اپنی والدہ کی غیر معمولی خدمت کی۔انہوں نے اس کا بڑا ذ کر کیا ہے۔ڈاکٹر نوری صاحب بھی لکھتے ہیں کہ مہمان نوازی کی صفت میں بڑی نمایاں تھیں اور بلا امتیاز ہر ایک کی مہمان نوازی کرتی تھیں اور خوش آمدید کہتی تھیں۔اسی طرح ڈاکٹر نوری صاحب کہتے ہیں کہ جب میں نے ریٹائر منٹ کے بعد وقف کیا تو انہوں نے مجھے کہا کہ میری خواہش تھی کہ کوئی بیٹا ہو تا تو وقف کرتی اور تمہارے وقف سے میری یہ خواہش بھی پوری ہو گئی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرم طارق مسعود صاحب مربی سلسلہ کا ہے۔یہ مکرم مسعود احمد طاہر صاحب کے بیٹے اور نظارت اصلاح و ارشاد مرکزیہ میں مربی تھے۔24 جولائی کو ستائیس سال کی عمر میں ربوہ میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے وفات پاگئے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کے خاندان میں احمدیت ان کے پڑدادا مکرم مہر بخش صاحب کے ذریعہ آئی تھی۔راجوری کشمیر سے تعلق رکھتے تھے۔مہر بخش صاحب 1920ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے تھے۔طارق مسعود صاحب نے تعلیم الاسلام ہائی سکول سے 2007ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد جامعہ میں تعلیم حاصل کی۔اور 2016ء میں ایف۔اے کا امتحان بھی دیا۔2014ء میں جامعہ پاس کیا۔نوجوان مربی تھے لیکن نہایت مخلص، شریف الطبع، والدین کا خیال رکھنے والے، دوستوں کا خیال رکھنے والے اور غریب پرور۔بہت سے غریبوں نے بعد میں بتایا کہ اپنے معمولی الاؤنس سے بھی ان کی مدد کیا کرتے تھے۔ایک دن کے بعد ان کی شادی ہونے والی تھی لیکن اس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس بلالیا۔اللہ تعالی ان کے درجات بلند کرے۔مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔مرحوم موصی تھے۔ان کے پسماندگان میں ان کے والدین کے علاوہ تین بھائی مکرم اشفاق احمد ظفر صاحب، سرفراز احمد جاوید صاحب، عطاء الرحیم صاحب اور ایک ہمشیرہ فوزیہ مسعود صاحبہ ہیں۔ان کی والدہ لکھتی ہیں کہ چندوں میں بڑھ چڑھ کر نہ صرف حصہ لیتے بلکہ ہمیں بھی تلقین کرتے کہ چندوں میں حصہ لیا کریں۔ان کے والد بیان کرتے ہیں کہ خلافت سے بے انتہا محبت رکھنے والا تھا۔بہت ہی نیک انسان تھا۔نماز باجماعت کی ہمیشہ سے عادت رہی۔مربی بننے سے پہلے بھی اہل خانہ کو نمازوں کی تلقین کرتے رہتے تھے۔کہتے ہیں فجر کی نماز کے بعد آکر با قاعدگی سے قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے اور انہیں دیکھ کر ہمیں بھی اپنی کمزوریوں پر شرمندگی ہوتی تھی۔اور بہت محبت سے پیش آنے والا، بہت فرمانبر دار بیٹا تھا۔گھر والوں سے ، ماں باپ سے کبھی اختلاف نہیں کیا اور اگر اختلاف ہو بھی تو بڑے تحمل سے سمجھایا کرتا تھا۔خلافت کی خاطر بڑی غیرت رکھنے والا تھا۔کہیں بھی اگر کوئی ایسی بات کر تاجو نظام جماعت یا خلافت کے منصب کے خلاف ہوتی تو فوری طور پر ان کو روکتا اور اگر وہ نہ رکتے تو پھر اس مجلس سے اٹھ