خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 366
خطبات مسرور جلد 15 366 عه فرمودہ مورخہ 04 اگست 2017 وقت ایک قطار میں شامل ہو گئے اور استغفار اور عربی کلمات جو تھے وہ دہرانے لگے۔" ( لیکن انہوں نے دہرائے تھے اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے بیعت کر لی۔ان کی صرف ایک جذباتی حالت تھی جو اس وقت طاری ہوئی) لیکن انہوں نے یہ کہا کہ " بہر حال اب اس طرف غور کریں گے۔" پریس کی بھی توجہ پیدا ہوئی ہے۔جلسہ کے ماحول سے متاثر ہو کر پر لیس بھی اب اسلام کے بارے میں بہت ساری صحیح خبریں دینے پر مجبور ہیں۔فرانسیسی اخبار لبریشن کی جر نلسٹ سو نیاڈیلے سالے (Sonia Delesale) ہیں وہ اپنے تاثرات بیان کرتی ہوئی کہتی ہیں "جب میں یہاں پہنچی تو پہلے مجھے پریشانی ہوئی کہ یہاں پر عورتوں اور مردوں کو علیحدہ علیحدہ رکھا گیا ہے۔لیکن پھر جب میں نے جلسہ گاہ کا وزٹ کیا تو دیکھا کہ عورتوں کے بجائے مر د کھانا بنارہے ہیں۔پھر عورتوں والے حصہ میں وقت گزارا تو مجھے پتا چلا کہ عورتوں کے علیحدہ انتظام کی وجہ سے عور تیں زیادہ آزاد تھیں اور سب سے بڑھ کر عورتوں کو مکمل خود مختاری حاصل تھی اور وہ ہر کام اپنی مرضی سے کر رہی تھیں۔" ( پس یہاں رہنے والی ہماری جو بعض بچیاں پڑھائی کے نام پر اور آزادی کے نام پر سمجھتی ہیں کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے ان کو یہ سوچنا چاہئے کہ غیر وں کو بھی ہمارا ماحول ہی پسند آتا ہے۔) پھر بولیویا(Bolivia) کے نیشنل نیوز چینل کے ایک جرنلسٹ نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے نزدیک اسلام عورتوں کو پیچھے رکھتا ہے اور ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن میں نے یہاں دیکھا کہ امام جماعت احمد یہ تو اعلیٰ کامیابیاں حاصل کرنے والی خواتین کو انعامات دے رہے ہیں اور ہر ایک عورت کو انفرادی حیثیت سے پکارا جارہا ہے تو میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ میں واپس جا کر اپنے اخبار میں اس حوالے سے ضرور لکھوں گا۔کیا دنیا میں کبھی کسی رہنما نے صرف عورتوں کو مخاطب کر کے خطاب کیا ہے ؟ کبھی نہیں۔" پھر ایک صحافی خاتون عالمی بیعت کے موقع پر بیعت کے الفاظ ساتھ ساتھ دہرانے لگ گئیں۔پوچھنے پر کہنے لگیں کہ " مجھے نہیں پتا کہ اس وقت مجھے کیا ہو گیا تھا لیکن میری زندگی میں اس قسم کے احساس اور جذبات پہلے کبھی نہیں آئے اور میں بے اختیار یہ الفاظ دہراتی چلی گئی۔پہلے میں سمجھتی تھی کہ اس قسم کی تقریبات میں جذبات کو ابھارنے کے لئے میوزک کا ہونا بھی ضروری ہے۔" کہتی ہیں " میوزک کے بغیر تو جذبات ابھر ہی نہیں سکتے لیکن اب مجھے پتا چلا کہ عالمی بیعت کے دوران یہ جذبات تو احمدیوں کے دل سے براہ راست نکل رہے تھے اور کسی قسم کے میوزک کی یہاں ضرورت نہیں تھی۔" بولیویا سے ایک صحافی کارلوس جمی اور یاس (Carlos Jamie Orias) صاحب ہیں۔کہتے ہیں "جس بات نے مجھے جماعت احمدیہ کے بارے میں سب سے زیادہ متائثر کیا وہ جماعت احمدیہ کا امن کے قیام کے لئے جوش اور