خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 365 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 365

خطبات مسرور جلد 15 365 عه فرموده مورخه 04 اگست 2017 کو قریب سے دیکھ لیں۔" کہتے ہیں " جب میں یہاں آیا تو میں نے اسلام کی اصل تصویر دیکھی۔خلیفہ وقت کی ہر تقریر اللہ اور اس کے رسول کے نام سے شروع ہوتی اور اللہ اور اس کے رسول کے نام پر ہی ختم ہوتی۔پھر جلسہ سالانہ کا ماحول دیکھ کر مجھے میرے سوالوں کا جواب مل گیا کہ احمدی مسلمان ہیں یا نہیں۔اب میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ جو کام مجھ سے ہو اوہ بالکل ٹھیک تھا۔احمدی ہی حقیقی مسلمان ہیں اور میں اس بات پر مطمئن ہوں۔احمدیوں کے تمام کام قرآن اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کے مطابق ہیں۔" بیلیز (Belize) کے دارالحکومت میلمو پان (Belmopan) کے میئر خالد بلائل(Khalid Belisle) صاحب بھی " جلسہ میں شامل ہوئے۔کہتے ہیں " جلسہ میں شمولیت بہت ہی عمدہ تجربہ تھا۔ایسا لگ رہا تھا کہ جماعت کا ہر ایک شخص میری ہی خدمت میں لگا ہوا ہے۔اس تجربے سے میرے دل میں اسلام کو سیکھنے کے لئے بہت دلچپسی پیدا ہوئی۔یہاں سے میں اخوت اور بھائی چارے کا سبق اپنے ملک واپس لے کر جارہا ہوں۔یہ ایک ایسی چیز ہے جو مجھے بار بار مختلف مقام پر نظر آتی ہے۔کاش میں اس کو اپنی بوتل میں بند کر کے اپنے ساتھ بیلیز (Belize) لے جا سکتا تا کہ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ بانٹتا۔" پھر کہتے ہیں کہ " جلسہ کے انتظامات بہت ہی اعلیٰ پیمانے کے تھے۔جس طرح مجھے یہاں ویلکم (Welcome) کیا گیا ہے اسے ہمیشہ یاد رکھوں گا۔میں آپ لوگوں کا ہمیشہ ممنون رہوں گا کہ آپ نے مجھے یہاں آنے کی دعوت دی۔" پھر کہنے لگا کہ " ایک دن میں مہمانوں کی مار کی میں اکیلا تھا تو چند خدام میرے پاس آگئے۔مجھے معلوم تھا کہ لوگ صرف اس لئے میرے پاس آئے ہیں کہ میں باہر سے آیا ہوں اور شاید میں اکیلا محسوس کر رہا ہوں گا۔اس بات نے میرے دل پر بہت گہرا اثر کیا کہ یہاں نوجوانوں کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ ہم نے اپنے مہمانوں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے۔" پھر عالمی بیعت کا بھی غیروں پر اثر پڑتا ہے۔ایک تو میں نے پہلے بیان کیا۔ایک اور واقعہ ہے۔کروشین پارلیمنٹ کے ممبر اسمبلی جلسہ میں شامل ہوئے ان کا نام اوچ کو تک ڈومانگو (Mr۔Hajdukovic Domango) ہے۔عالمی بیعت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ "عالمی بیعت کی تقریب نے مجھے بہت ہی متاثر کیا۔میں عیسائی مذہب کی faith reconfirmation کی تقریب میں متعدد مرتبہ شامل ہوا ہوں لیکن جو جذبات خلوص اور مذہب سے وفاداری کا عزم جماعت احمدیہ کی عالمی بیعت میں دیکھا ہے وہ ایک عجیب و غریب اور حیرت انگیز تجربہ تھا جس کو میں ساری عمر یاد رکھوں گا۔" پھر ایک مصری ڈاکٹر ہانی رشوان صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ " وہ عالمی بیعت کے وقت جلسہ گاہ میں داخل ہوئے اور لوگوں کی قطار میں جو جلسہ گاہ سے باہر دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں دیکھ کر بہت متاثر اور حیران ہوئے۔" کہتے ہیں "ہمارے ملک مصر میں اس طرح کا نظم و ضبط ناممکن ہے۔ان کے جذبات اس قدر بھر گئے کہ وہ بیعت کے