خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 364 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 364

خطبات مسرور جلد 15 364 عه فرموده مورخه 04 اگست 2017 ہو گی اس لئے آپ پہلے کھانا کھالیں پھر آرام کریں۔یہ بات سن کر مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث یاد آگئی جب ایک دفعہ ایک مجلس میں ایک مہمان آیا تو آپ نے اس کے بارے میں ایک صحابی کو کہا تھا کہ اسے کون لے کر جائے گا۔پھر انہوں نے مہمان نوازی کے بارے میں وہ پوری لمبی حدیث سنائی تھی۔تو بہر حال پھر وہ کہتے ہیں کہ جلسہ میں شامل ہو کر مجھے یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ میں نے اپنی تمام زندگی اللہ تعالیٰ کی تلاش میں گزاری لیکن اللہ تعالیٰ کو صرف یہاں آکر ہی پایا ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے عالمی بیعت کی عظیم الشان تقریب میں شامل ہو کر بیعت کرنے کی توفیق ملی۔( یہاں آئے تھے اور بیعت بھی کر لی۔جس وقت مجھ سے باتیں کر رہے تھے بڑے جذباتی ہو رہے تھے۔کہتے ہیں جس وقت میں بیعت کر رہا تھا اور میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور یہ وہ آنسو ہیں جو میرے والد کی وفات پر بھی نہ نکل سکے۔یہ آنسو بظاہر لگتا تھا کہ شاید بغیر کسی وجہ کے ہیں لیکن بعد میں مجھے سمجھ آئی کہ زمین پر اب ایک ایسی امید پیدا ہو گئی ہے اور لاکھوں لوگوں کی ایک ایسی جماعت پیدا ہو گئی ہے جو اپنی ذات میں بے نظیر ہے اور یہ جماعت اپنے عمل سے ہر ایک مشکل اور آفت کو دنیا سے ڈور اور پاک کرنے کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔" پھر بعض نو مبائعین جب محبت، پیار اور بھائی چارے کے نظارے دیکھتے ہیں تو ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔جمیکا(Jamaica) سے شامل ہونے والی ایک نو مبائع خاتون و نسن ولیمس(Winson Williams) صاحبہ کہتی ہیں کہ "جلسہ سالانہ میں خلیفتہ المسیح کی تقاریر اور بالخصوص عالمی بیعت ایک بہت جذباتی تجربہ تھا۔" کہتی ہیں "جب مجھے پتا چلا کہ یہاں پر بہت سارے کارکنان رضا کارانہ طور پر خدمت کرتے ہیں تو مجھے خیال آیا کہ ان کارکنان کی تربیت کے لئے جماعت کو بہت سی مشکلیں در پیش ہوں گی۔لیکن جب میں نے ان کارکنان کو بے لوث خدمت کرتے دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ یہ ایک الہی جماعت ہے اور خلیفہ وقت کو براہ راست اللہ تعالیٰ سے تائید و نصرت حاصل ہے۔" کہتی ہیں "بالخصوص کار پارک میں خدمت کرنے والے خدام کو موسم کی خرابی کے باوجود دلجوئی سے اپنے فرائض سر انجام دیتے دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑ گئی اور یہ نظارہ میں نے اپنی ساری زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔آئیوری کوسٹ سے ایک شہر کے میئر زرا کیہ دوپے زوجے (Zrakpa Dopen) صاحب آئے۔کہتے ہیں " میں نے جب اسلام احمدیت قبول کیا تو لوگوں سے بہت منفی باتیں سننے کو ملیں۔مجھے اسلام کا بہت زیادہ علم تو نہیں تھا۔اس لئے میں بہت پریشان ہوا کہ میں کس طرح حج (Judge) کر سکتا ہوں کہ احمدی مسلمان ہیں یا نہیں۔بہر حال کہتے ہیں مجھے خیال آتا کہ میں نے کہیں جماعت میں شامل ہو کر کوئی گناہ تو نہیں کر لیا۔چنانچہ جب میں نے جماعت کے ساتھ رابطہ کیا تو انہوں نے مجھے جلسہ سالانہ میں شمولیت کی دعوت دی کہ وہاں پر جا کے جماعت