خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 361 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 361

خطبات مسرور جلد 15 361 عه فرمودہ مورخہ 04 اگست 2017 انتظامات، محبت اور خلوص سے ہم بہت متاثر ہوئے۔وہ کہتے ہیں کہ جلسہ کے دوران چھوٹے بچے جس محبت اور اخلاص کے ساتھ پانی پلانے کی ڈیوٹی دے رہے تھے یا خراب موسم میں پارکنگ اور ٹریفک کو کنٹرول کیا جارہا تھا اور صفائی کے معیار کو قائم رکھنے کے لئے جو کاوشیں کی جارہی تھیں ان سب امور نے ان پر بہت گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔" اور کہتے ہیں کہ "وہ پہلی بار احمد یہ جلسہ میں شامل ہوئے ہیں لیکن اس کی یاد گاریں وہ ساری عمر یاد رکھیں گے۔" ( ان سے وہاں جماعت کو مستقل رابطہ رکھنا چاہئے) گزشتہ سال کروشیا سے ایک جوڑا آیا تھا۔بڑی عمر کے ہیں۔مسلمان تھے وہ اور اس سال بھی شامل ہوئے اور پھر انہوں نے مجھے ملاقات میں کہا کہ گزشتہ سال ہم ایک عام مسلمان کی حیثیت سے شامل ہوئے تھے اور اس سال ہم احمدی مسلمان کی حیثیت سے جلسہ میں شامل ہوئے ہیں۔تو جلسہ پہ اللہ تعالی کا بڑا فضل ہوتا ہے۔بیعتیں بھی ہوتی ہیں۔فلپائن سے وہاں کے کانگریس مین سالوادور بلار و جونیئر (۔Salvador Belaro Jr) جلسہ میں شامل ہوئے۔وہاں کی کانگریس میں اعلیٰ حیثیت رکھتے ہیں۔کہتے ہیں کہ "میرے لئے ایک آنکھیں کھول دینے والا تجربہ تھا جس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔میرے لئے سب سے زیادہ خوش کن چیز یہ تھی کہ جماعت کے افراد آپس میں انتہائی محبت اور خوش اخلاقی سے ملتے ہیں اور ایک دوسرے کی حتی الوسع مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔" پس یہ جو غیروں پہ ہماری جماعت کا اثر ہوتا ہے اس کو عام حالات میں بھی ہر ایک کو قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ ہر احمدی کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ صرف چند دنوں کے لئے دکھاوا نہ ہو بلکہ ہمیشہ کے لئے یہ اثر قائم کرنے والا ہو۔کہتے ہیں کہ " اس تجربے نے میری اسلام کے بارے میں معلومات میں بہت اضافہ کیا اور مجھے اسلام کی ایک ایسی خوبصورت تعلیم سے متعارف کرایا جس کا مجھے پہلے علم نہیں تھا۔مجھے اس جلسہ میں آکر ہی پتا چلا کہ اسلام کے بارے میں جو باتیں میڈیا پر اور عام طور پر کہی جاتی ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" پھر آئرلینڈ سے ایک مہمان ڈیرن ہالیٹ کو وینٹری (Darren Howlett Coventry) جو کہ نیشنل ڈیورسٹی (Diversity) پولیس آفس کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں کہ "یہ میرا پہلا جلسہ سالانہ تھا۔جلسہ کے موقع پر مجھے جماعت احمدیہ کے اولوالعزم خدمت گزار اور نیک فطرت احباب کے ساتھ ملنے کا موقع ملا۔"(کارکنوں کی یہ خدمت دیکھ کے لوگ بڑے متاثر ہوتے ہیں۔)" جنہوں نے محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں کا صرف لفظی اظہار ہی نہیں کیا بلکہ ان تمام کارکنان اور شاملین کی بے لوث اور بے نفس اور رضا کارانہ خدمت کے ذریعہ سے اس کا بر ملا عملی اظہار ہوا۔کہتے ہیں کہ میں آپ لوگوں کا ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے یہ عظیم موقع عطا فرمایا اور مجھے اسلام کے بارے میں غور و خوض کرنے اور جلسہ سالانہ کے پروگراموں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا ہے۔" پھر کہتے ہیں " امام جماعت احمدیہ کے خطاب سے پہلے جو نظم پڑھی گئی تھی اس کا مجھ پر بہت گہرا اثر ہوا۔"