خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 360
خطبات مسرور جلد 15 360 به جمعه فرمودہ مورخہ 04 اگست 2017 مجھے بہت متاثر کیا کہ اپنے دشمنوں کو معاف کرنے اور ان کے لئے دعا کرنے سے دل کینہ اور بغض سے پاک ہو جاتا ہے " ( اور یہ وہ تعلیم ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دی۔) کہتے ہیں کہ " اور یہی چیز ہے جو دنیا میں امن کے قیام کا ذریعہ ہو سکتی ہے اور ان تقاریر سے مجھے روحانی اور عملی طور پر بہت فائدہ پہنچا ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات اور ان کی عملی تصویر اس جلسہ میں دیکھنے کو ملی۔" بیٹی (Haiti) کے صدر مملکت کے نمائندہ جوزف پیئرے (Joseph Pierre) کہتے ہیں کہ " جلسہ میں شامل ہونے سے پہلے میرے دل میں کئی تحفظات تھے کہ پتا نہیں کس قسم کے مسلمان ہیں اور وہاں جا کر میرا کیا بنے گا؟ لیکن جلسہ میں شامل ہونے کے بعد میرے ہر قسم کے شکوک و شبہات دور ہو گئے ہیں۔ہر ایک سادگی اور بردباری کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ہر طرف بھائی چارے کی فضا تھی۔" پھر کہتے ہیں " میں کوئی مذہبی آدمی نہیں ہوں لیکن اس جلسہ میں شامل ہونے اور امام جماعت احمدیہ کے ساتھ ملنے کے بعد میر ادل کہہ رہا ہے کہ اگر کوئی سچامذ ہب ہے تو وہ اسلام اور احمدیت ہے۔" پھر برکینا فاسو میں ایک انسانی حقوق کمیشن کے صدر ڈو کو مورے (Zoucomore) صاحب ہیں وہ بھی جلسہ میں شامل ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ "جب مجھے جلسہ سالانہ میں شمولیت کی دعوت دی گئی تو مجھے بہت حیرت ہوئی کہ میں نہ تو جماعت کا ممبر ہوں نہ ہی مسلمان ہوں لیکن پھر بھی مجھے مسلمانوں کے ایک اجتماع میں دعوت دی جار ہی ہے۔جلسہ میں شامل ہو کر میں نے دیکھا کہ جماعت تو بلا تمیز رنگ و نسل اپنی محبت کے بازو سب کے لئے پھیلائے ہوئے ہے اور ہر ایک سے پیار و محبت کا سلوک کرتی ہے۔سب کو ایک ہی طرح کی عزت و احترام دیتی ہے اور سب کا خیال رکھتی ہے۔" کہتے ہیں کہ "میں نے بہت سے مذہبی رہنماؤں کی تقاریر سنی ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو اس طرح کہ گویا وہی حق پر ہیں اور وہ لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔لیکن میں نے امام جماعت احمدیہ کی تقاریر غور سے سنیں اور ساری تقاریر کا مرکزی خیال یہی تھا کہ دنیا میں امن کا قیام ہو۔" کہتے ہیں اور یہی تعلیم ہے جس کی وجہ سے دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے اور ہم دہشتگردی اور نا انصافی کو شکست دے سکتے ہیں۔" اسی طرح کروشین وفد میں ایک خاتون کیٹرینا سالک (Katrina Celjak) صاحبہ شامل تھیں۔کہتی ہیں کہ "میں پہلے چرچ میں نن (Nun) تھی۔(اب حق کی تلاش میں ہیں۔) آگے کہتی ہیں "جلسہ کے ماحول نے اور یہاں پر لگائی گئی نمائشوں اور جماعت کے بارے میں دیگر معلومات نے میرے ذہن کو بہت جلا بخشی ہے۔مجھے لگتا ہے کہ شاید جلد ہی اب تلاش حق کا سفر اپنی منزل کو پالے گا۔" کہتی ہیں کہ "امام جماعت احمدیہ کے خطابات نے میرے ذہن پر بڑا گہرا اثر چھوڑا ہے۔اب میں نے تمام امور کا بہت گہرائی سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔" کروشیا کے وفد میں انٹر نیشنل بزنس مینجمنٹ کے ایک طالب علم شامل تھے۔وہ کہتے ہیں کہ " جلسہ کے