خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 362
خطبات مسرور جلد 15 362 عه فرمودہ مورخہ 04 اگست 2017 پھر ہالینڈ سے ایک مہمان مسٹر آر نوڈو ان ڈورن (Arnoud van Doorn) نے لکھا کہ " جلسہ سالانہ کا ماحول بہت دوستانہ تھا۔اس زبردست تقریب سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔اس پر میں نے لوگوں کے ساتھ یاد گار ملاقاتیں کی ہیں۔فضا میں ایک مثبت پیغام کی خوشبو تھی۔نوجوانوں کی بھر پور شرکت اور بے لوث خدمت نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا۔نوجوانوں کا کام کرنا دیکھ کر مجھے ایک نئی امید پیدا ہوئی۔میں نے بیشمار مسلم اور غیر مسلم تقاریب میں شرکت کی ہے لیکن نوجوانوں کی اس طرح بھر پور شرکت میرا پہلا تجربہ ہے۔" پھر یوکے(UK) کی کوئینز کونسل (Queen's Council) کے ایک سینئر بیرسٹر مسٹر ڈیوڈ مارٹن (David Martin) کہتے ہیں " جو میں کہنے جا رہا ہوں وہ میرے الفاظ نہیں بلکہ میرے دل کی آواز ہے۔میں نے آج تک ایسی تقریب میں شرکت نہیں کی۔کیا ہی عمدہ لوگ اور خوبصورت جماعت ہے۔میں اپنی والدہ کی طرف سے اصولی طور پر تو یہودی ہوں لیکن میں چرچ آف انگلینڈ بھی جاتا رہا ہوں۔میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جلسہ سالانہ جیسا منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔" کہتے ہیں " آپ لوگ اسلام کی کیا ہی خوبصورت تصویر ہیں۔مجھے حیرانگی ہے کہ بی بی سی والوں کی طرف سے اس جلسہ کے بارے میں ابھی تک کوئی ڈاکیومنٹری کیوں نہیں بنائی گئی۔(سنا ہے اب بی بی سی والے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاکہ لوگوں کو جماعت احمد یہ اور اس کے نظریات و عقائد اور طرز زندگی کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔" سیر الیون کے ایک مہمان عبد الکا به کار گبو (Abdul Kabba Kargbo) صاحب اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہیں کہ "میں جلسہ سالانہ کے انتظامات دیکھ کر بے حد متائثر ہوا ہوں۔اگر میں یہاں نہ آتا اور کوئی مجھے بتاتا کہ اس طرح سینتیس ہزار سے زیادہ لوگ ایک جگہ پر تین دن کے لئے جمع ہوئے اور کسی قسم کی کوئی بد مزگی نہیں ہوئی تو شاید میں یقین نہ کرتا۔لیکن یہ سب کچھ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بہت حیران ہوا ہوں کہ میں نے کسی کو شکایت کرتے نہیں دیکھا اور سارے لوگ بہت عاجزی اور انکساری کے ساتھ خدمت کر رہے ہیں۔" پس ہمارے جو کارکنان ہیں، رضا کار ہیں ان سے غیر بڑے متاثر ہوتے ہیں اور ایک خاموش تبلیغ ہے جو ہر کارکن بچہ ، بوڑھا، عورت، مرد، جو ان کر رہا ہوتا ہے۔یہ غیروں کے چند تاکثرات تھے۔بعض مسلمان بھی شامل ہوئے جو اپنی حکومتوں کے لیڈر تھے۔ان کی نمائندگی بھی کر رہے تھے۔ان کے ایک دو تاثرات پیش کرتا رتا ہوں۔الحاج محمد وسلیم صاحب ہیں جو نیشنل اسمبلی گنی کنا کری کے وائس پریذیڈنٹ ہیں۔ڈپٹی سپیکر کہہ لیں۔یہ کہتے ہیں کہ "جلسہ کے انتظامات اور ڈسپلن کو دیکھ کر یہ بہت متاثر ہوئے۔باوجود ڈھونڈھنے کے کسی بھی شعبہ میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔بڑے پیمانے پر انتظامات اور شاملین کی کثیر تعداد کے باوجود کسی قسم کی بد انتظامی نہیں تھی۔