خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 359
خطبات مسرور جلد 15 359 عه فرمودہ مورخہ 04 اگست 2017 ہے اور دنیا کے مسائل کا حل اسی میں ہے۔پھر کہتی ہیں کہ "امام جماعت احمدیہ کا عورتوں کو جو خطاب تھا اس نے سوچ پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔باقی مسلمان گروہوں کے نزدیک عورت کی حیثیت ایک غلام سے زیادہ نہیں ہے۔لیکن امام جماعت احمدیہ نے عورتوں کے خطاب میں عورتوں کو معلمہ قرار دیا ہے اور اس کے فرائض میں آنے والی نسلوں کی تربیت اور تعلیم کو شامل کیا ہے جو دنیا کا مستقبل ہے۔یعنی دنیا کا مستقبل عورتوں کے ہاتھوں میں ہے اور دین کا مستقبل بھی عورتوں کے ہاتھوں میں ہے۔کہتی ہیں بہت بڑا مقام ہے جو عورتوں کو دیا گیا ہے اور اسی سے ایک صحت مند اور پر امن معاشرے کا قیام عمل میں آسکتا ہے۔" پھر گوئٹے مالا کی نیشنل پارلیمنٹ کی ممبر الینا کیلس ( Iliena Calles) نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا کہ جلسہ میں شمولیت ایک بہت ہی عجیب اور حیران کن تجربہ تھا۔مذہب اسلام اور جماعت احمدیہ کے بارے میں میرے خیالات میں زبر دست تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔میڈیا نے اسلام کے بارے میں بہت ہی غلط اور ہیبت ناک تصور پیدا کیا ہوا ہے کہ اسلام تشدد اور نفرت کی تعلیم دیتا ہے۔لیکن ہمیں اس جلسہ میں اسلام کی حقیقی پر امن تعلیم کی عملی تصویر دیکھنے کا موقع ملا اور جماعت احمدیہ کا جو مائو ہے کہ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں دیہی ایک راستہ ہے جس سے عالمی امن، باہمی محبت اور انصاف دنیا میں قائم ہو سکتا ہے۔کہتی ہیں کہ ہزاروں مہمانوں کی خدمت جو کارکنان کر رہے تھے ایک عجیب نظارہ تھا۔پھر عورتوں کی تقریر کا بھی اس نے ذکر کیا کہ کس طرح عورت کا مقام ہے اور کس طرح تقریر میں عورت کے ،ماں کے پاؤں کے نیچے جنت کا ذکر ہوا۔پھر کہتی ہیں کہ میں نے مردوں کی مار کی کی نسبت عورتوں کی جلسہ گاہ اور مارکی میں زیادہ آرام، سہولت اور آزادی محسوس کی۔یہ اسلام کی خوبصورت اور حسین تعلیم کی بہترین مثال ہے کہ عورت کی عزت، اس کی حفاظت اور مکمل آزادی کی ضمانت دی جاتی ہے۔کہتی ہیں کہ اب میں اسلام کی پر امن اور خوبصورت تعلیم کا تصور لے کر واپس جارہی ہوں۔" اسی طرح کوسٹا ریکا کی نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر سریجیو مایا (Sergio Moya) جلسہ میں شامل ہوئے۔کہتے ہیں کہ " میں نے اس جلسہ کے ذریعہ اسلام کی نئی تصویر دیکھی ہے۔مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت دیکھی جو باہمی محبت و الفت میں بے مثال ہے۔جو اپنے ایمان کی عملی تصویر پیش کرتی ہے۔میں واپس جا کر اپنے حلقہ احباب اور طلباء کو بتاؤں گا کہ جماعت احمد یہ اسلام کی حقیقی اور خوبصورت تعلیمات کو عملی طور پر پیش کرتی ہے اور جو حقیقتاً اپنے ماٹو پر عمل پیرا ہے۔" اور یہ آنے والے لوگ ہماری تبلیغ کا بھی ذریعہ بن جاتے ہیں۔پھر کوسٹاریکا کی ممبر پارلیمنٹ کے مشیر ڈگلس مونٹی روسو (Doglas Monteroso) صاحب کہتے ہیں کہ "میں نے جلسہ سالانہ میں امام جماعت احمدیہ کے خطابات بڑے غور اور توجہ سے سنے۔ان کی اس نصیحت نے