خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 358 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 358

خطبات مسرور جلد 15 358 عه فرموده مورخه 04 اگست 2017 اصل میں تو جلسہ سالانہ کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ایسا بھائی چارہ اور شکر گزاری کے جذبات ایک دوسرے کے لئے پیدا ہوں جو مثالی ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی محبت پیار اور بھائی چارے کے جذبات ہیں جن کا اظہار جب ہم اپنوں اور غیروں سے کر رہے ہوں تو یہ چیز ہر آنے والے مہمان کو متاثر کر رہی ہوتی ہے۔علاوہ علمی اور دینی پروگراموں کے ہر احمدی کا عملی نمونہ آنے والے غیر وں کو بے حد متاثر کر رہا ہوتا ہے جس کا وہ اظہار کرتے ہیں کہ اسلام کی حقیقی تعلیم کا نمونہ ہمیں جلسہ میں نظر آیا جس سے ہم بڑے متاثر ہوئے۔چھوٹے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں غیر معمولی اخلاص کے ساتھ خدمت کر رہا تھا۔اسی طرح شامل ہونے والے بھی بغیر کسی بے چینی کے اور شر پھیلانے کے جلسہ میں خاموشی سے شامل ہو رہے تھے۔اور پروگراموں سے استفادہ کر رہے تھے اور یہ عملی نمونے کا اظہار ایک دنیا دار کے لئے بہت حیرت انگیز بات ہے۔آنے والے غیر جو مہمان ہیں وہ اپنے تاثرات کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔اس وقت میں چند ایک تاثرات پیش کروں گا جو انہوں نے اس ماحول کو دیکھ کر بیان کئے اور بر ملا اس بات کا اظہار کیا کہ اگر یہ اسلام کی تعلیم ہے تو اس تعلیم کے پھیلنے کی دنیا میں ضرورت ہے۔بین سے سابق وزیر خارجہ اور مشیر صدر مملکت " مریم بونی جیالو صاحبہ " ہیں۔اس وقت بھی وہ سینیئر وزیر کے مشیر ہیں۔کہتی ہیں کہ " مجھے اس جلسہ کے ذریعہ سے جماعت احمدیہ کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملا۔میں جلسہ کے انتظامات سے بہت متاثر ہوں۔کارکنان کا انتظامی معیار بہت بلند تھا۔کارکنان کا اخلاص دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔کہتی ہیں میں نے انتظامی طور پر ہر طرح سے جائزہ لیا ( بڑی تنقیدی نظر سے لوگ دیکھتے ہیں) لیکن اتنے بڑے جلسہ میں کوئی نقص نظر نہیں آیا۔ہر شعبہ کو تنقیدی نظر سے دیکھا لیکن ہر شعبہ میں انتظامات معیاری اور اعلیٰ تھے۔پھر کہتی ہیں کہ جب میں کارکنان کی طرف دیکھتی تو محسوس کرتی کہ کیا چھوٹا اور کیا بڑا، بوڑھا، جوان، مرد، عورت الغرض ہر طبقے کے لوگ دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے کوشاں تھے۔ہر کوئی اپنا آرام بھلا کر دوسروں کو آسائش اور سہولت پہنچانے کے لئے تیار تھا۔ان مسکراتے چہروں کو میں اپنی زندگی میں کبھی بھلا نہ پاؤں گی جو دوسرے مہمانوں کی خدمت میں خوشی محسوس کرتے۔کہتی ہیں یہ حسین یادیں میری زندگی کا حصہ ہیں۔میری خواہش ہے کہ یہ اقدار ہمارے ملک میں بھی قائم ہوں۔اور جماعت احمد یہ ایک سیکھنے کی اکیڈمی ہے جس میں ہر ملک کے نوجوان بھی تعلیم حاصل کریں۔" کہتی ہیں "اگر میں روحانی طور پر دیکھوں تو ہر طرف ایک بھائی چارے کا ماحول تھا جس سے روحانیت میں اضافہ ہو تا تھا۔یہ ایسا ماحول تھا جس کا میں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ تجربہ کیا اور شاید جو نئے آنے والے مہمان تھے انہوں نے پہلی دفعہ ایسا ماحول دیکھا ہو۔کہتی ہیں کہ وہ اسلام جو احمدیت پیش کرتی ہے وہی دنیا کو امن دے سکتا