خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 355
خطبات مسرور جلد 15 355 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 جولائی 2017 نہیں بیٹھنا۔وہاں بازار میں ایک کونے میں ایک جگہ بنالیں جہاں جلسہ سننے کا انتظام ہو اور ٹی وی لگا ہو۔اسی طرح یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جماعتی طور پر ہر سال کی طرح اس سال بھی نمائشیں لگائی گئی ہیں جن میں ریویو آف ریلیجنز کی نمائش بھی ہو گی اور ساتھ ہی کفن مسیح کی نمائش بھی ہو گی۔اس مضمون کے بعض دوسرے غیر مسلم ماہرین بھی آرہے ہیں جو اپنے لیکچر بھی دیں گے اور سوال جواب بھی کریں گے۔ان سے بھی جن لوگوں کو دلچسپی ہے ان کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔اسی طرح 'القلم کا پر اجیکٹ بھی ریویو آف ریلیجنز کے تحت اس دفعہ بھی چلے گا جہاں قرآن کریم کی کوئی نہ کوئی آیت ہاتھ سے لکھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔اس میں لوگ بڑی دلچسپی سے شامل ہوتے ہیں۔تو جن کو بھی دلچسپی ہے وہ اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔اسی طرح شعبہ آرکائیو کے تحت بھی اس دفعہ بعض تبرکات کی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔وہ بھی دیکھنے والی چیز ہو گی۔مخزن تصاویر کی تصویروں کی نمائش ہے۔لیکن یہ یادر ہے کہ جلسہ کی کارروائی کے دوران یہ سب بند رہیں گی۔جلسہ کی کارروائی کو سب غور سے سنیں اور تقریروں سے فائدہ اٹھائیں۔علماء اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی محنت سے اپنی تقاریر تیار کرتے ہیں ان سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے۔یہ نہیں کہ صرف اپنی پسند کے مقرروں یا عنوانات کو غور سے سنیں اور اس میں دلچسپی لیں اور باقی پر توجہ نہ دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " سب صاحبان متوجہ ہو کر سنیں۔میں اپنی جماعت اور خود اپنی ذات اور اپنے نفس کے لئے یہی چاہتا اور پسند کرتا ہوں کہ ظاہری قیل و قال جو لیکچروں میں ہوتی ہے اس کو ہی پسند نہ کیا جاوے اور ساری غرض و غایت آکر اُس پر ہی نہ ٹھہر جائے کہ بولنے والا کیسی جادو بھری تقریر کر رہا ہے۔الفاظ میں کیسا زور ہے۔میں اس بات پر راضی نہیں ہوتا۔" فرماتے ہیں "میں تو یہی پسند کرتا ہوں اور نہ بناوٹ اور تکلف سے " بناوٹ اور تکلف کوئی نہیں " بلکہ میری طبیعت اور فطرت کا ہی یہی اقتضا ہے کہ جو کام ہو اللہ کے لئے ہو۔جو بات ہو خدا کے واسطے ہو۔۔۔پھر آپ فرماتے ہیں " ہم جو کچھ کہیں خدا کے لئے ، اس کی رضا حاصل کرنے کے واسطے ، اور جو کچھ سنیں خدا کی باتیں سمجھ کر سنیں اور نیز عمل کرنے کے واسطے سنیں اور مجلس وعظ سے ہم صرف اتنا ہی حصہ نہ لے جائیں کہ یہ کہیں " کہ " آج بہت اچھا وعظ ہوا۔" سنیں غور سے سنیں اور اس نیت سے سنیں کہ عمل کرنا ہے۔صرف اس نیت سے نہ سنیں کہ وعظ کی تعریف کرنی ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں " مسلمانوں میں ادبار اور زوال آنے کی یہ بڑی بھاری وجہ ہے۔"۔" کیوں گراوٹ پیدا ہوئی دوسرے مسلمانوں میں ؟ اس کی بھاری وجہ یہی ہے کہ وہ اس نیت سے نہیں سنتے تھے۔فرمایا اور نہ اس قدر کا نفرنسیں اور انجمنیں اور مجلسیں ہوتی ہیں اور وہاں بڑے بڑے لٹان اور