خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 353 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 353

خطبات مسرور جلد 15 353 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 جولائی 2017 کوئی دس مرتبہ بھی سالن کا مطالبہ کرے اور اپنی مرضی کا سالن ڈلوانا چاہے تو ڈال دیں۔بعض دفعہ کھانا کھلانے کی جگہوں پر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بد مزگی پیدا ہو جاتی ہے اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اسی طرح مہمان یہ بھی خیال رکھیں کہ کھانا کھا کر جتنی جلدی ہو سکے کھانے کی مار کی کو چھوڑ دیں تاکہ دوسرے لوگ بھی آرام سے آکر کھانا کھا سکیں۔کوشش تو انتظامیہ کی یہی ہوتی ہے کہ ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلایا جا سکے اور جگہ بھی اضافہ کر کے ، وسیع کر کے ، بنانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن پھر بھی رش میں مشکل پیش آجاتی ہے۔اگر مہمانوں کا تعاون ہو تو اس میں پھر سہولت رہتی ہے۔مہمانوں کے لئے دوسری سہولیات غسل خانوں وغیرہ کا بھی بہتر انتظام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ عارضی انتظام کی وجہ سے بعض دفعہ مہمانوں کو مشکل اور تکلیف کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس بات کو برداشت کرنا چاہئے۔اب رات کو ہی مجھے رپورٹ ملی کہ غسل خانوں کے ایک حصہ کا ڈرین پائپ (Drain Pipe) ٹوٹ گیا ہے جس کی وجہ سے گٹر بلاک ہو گئے، غسل خانوں کو تھوڑے عرصے کے لئے بند کرنا پڑا اور مشکل پیش آئی۔گوانتظامیہ اس کو مستقل حل کرنے کی اور صحیح کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن مہمانوں کو اس میں مزید مشکل پیش آسکتی ہے۔اس کے علاوہ جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا کہ ٹرانسپورٹ کے اور پارکنگ کے انتظام میں اس دفعہ سہولت کی خاطر کچھ تبدیلی کی گئی ہے اور ابھی تک جو میری رپورٹ ہے اس کے مطابق تو اس سہولت سے فائدہ ہو رہا ہے اور ٹریفک کا جو رش تھا یا ٹریفک جام ہو جاتا تھا اس میں کافی حد تک کمی ہے بلکہ ٹریفک کا بہتر فلو (flow) ہے۔لیکن پھر بھی آنے والوں کو پارکنگ اور ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے باقی تین دنوں میں بھی پورا تعاون کرنا چاہئے۔جہاں اور جس طرح بھی کاروں کو اور افراد کو بھی کیو (que) اور لائنیں لگانے کا کہا جائے اسی طرح لگائیں۔جیسا کہ میں نے کہا کاروں کی پارکنگ کے لئے بڑی پارکنگ اور جگہ بھی لی گئی ہے وہاں سے بسوں پہ لایا جائے گا۔اس میں بھر پور تعاون کریں۔اگر تعاون ہو گا تو بغیر ٹریفک رکے آسانی سے وقت پر پہنچ سکتے ہیں۔عموماہر سال جمعہ کے وقت لوگ دیر سے پہنچتے تھے اور آخر وقت تک آرہے ہوتے تھے بلکہ مجھے کہا جاتا تھا کہ کچھ لیٹ آئیں تا کہ لوگ پہنچ جائیں۔لیکن اس دفعہ لگتا ہے اس وجہ سے کچھ بہتر انتظام ہے۔اس لئے آئندہ بھی تعاون کریں گے تو یہ بہتر انتظام جاری رہے گا ورنہ دقت ہو گی۔اسی طرح جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا تھا کہ وقت سے پہلے سفر شروع کریں تا کہ وقت پر پارکنگ کی جگہ پہنچ سکیں اور پھر بسوں کے ذریعہ جلسہ گاہ پر لانے کا انتظام کیا جاسکے۔اسی طرح سیکیورٹی کے مسائل ہر سال بڑھ رہے ہیں۔اس لئے سکیورٹی چیکنگ پر بھی بھر پور تعاون کریں۔اپنا ایمنر کارڈ (Aims Card) اور جہاں یہ نہیں ہے یا شناختی کارڈ کی ضرورت ہے یا شنا ختی تعارف کا خط ہے