خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 352 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 352

خطبات مسرور جلد 15 352 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 جولائی 2017 جلسہ کے دنوں میں یہاں اس جگہ پر کیونکہ عارضی انتظام ہوتا ہے اس لئے یہاں رہائش رکھنے والوں کو وہ آرام اور سہولت مہیا نہیں کی جاسکتی جو ایک مستقل انتظام میں کی جاسکتی ہے۔یہاں اجتماعی قیام گاہیں بھی بنائی گئی ہیں اور خیموں میں فیملیوں کی رہائش کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔اس انتظام میں بہت سی کمیاں رہ گئی ہوں گی۔جلسہ پر آنے والے مہمانوں کے لئے جماعتی مہمان نوازی کے شعبہ جات گھر والے کی حیثیت رکھتے ہیں اس لئے بجائے ان شعبوں کو اس نظر سے دیکھنے کے کہ یہ جماعتی شعبہ جات ہماری خدمت پر مامور کئے گئے ہیں اور اگر ان میں کہیں کوئی کمی یا کمزوری ہے تو ہم حق رکھتے ہیں کہ جو چاہیں انہیں کہیں اور سہولتیں حاصل کرنے کی کوشش کریں تو یہ غلط سوچ ہے۔یہ کارکنان اور کارکنات جو خدمت پر مامور ہیں کوئی ہمارے ملازم نہیں ہیں۔یہ ان کی عاجزی اور خدمت کا جذبہ ہے جو وہ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے پیش کر کے دکھا رہے ہیں۔ان کارکنوں میں بعض بہت پڑھے لکھے اور صاحب حیثیت لوگ بھی ہیں۔اس لئے مہمانوں کو چاہئے کہ کارکنوں کے ساتھ ضرورت کے وقت نرمی اور پیار سے بات کر کے اپنی ضرورت کا مطالبہ کریں اور اگر وہ یعنی کار کن مجبوری کی وجہ سے معذرت کریں تو پھر خوشدلی سے ان کی معذرت کو قبول کریں۔اسی طرح ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی بڑے جذبے سے ڈیوٹی دیتے ہیں اور دے رہے ہیں۔بعض دفعہ بعض بڑوں کے غلط رویے اور بات کرنے کے طریق سے ان نوجوانوں کو بڑی ٹھو کر لگتی ہے اور یہ بڑے لوگ ان کی ٹھو کر کا باعث بن جاتے ہیں۔پس اس لحاظ سے بھی ہر ایک کو خیال رکھنا چاہئے۔بڑوں کو بھی چھوٹوں سے شفقت سے پیش آنا چاہئے۔ہر احمدی آنے والا مہمان اپنے آپ کو صرف مہمان نہ سمجھے ، جیسا کہ میں نے کہا، بلکہ اس نیت سے جلسہ میں شامل ہو کہ میرا اصل مقصد جلسہ میں شامل ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا وارث بننا ہے، جلسہ کی برکات سے فائدہ اٹھانا ہے اور اپنی روحانیت میں ترقی کرنا ہے، نہ کہ چھوٹی چھوٹی دنیاوی سہولتوں اور باتوں کے پیچھے اپنا وقت ضائع کرنا ہے اور ماحول کو اس وجہ سے مکدر اور خراب کرنا ہے۔لیکن کارکنان کو بھی یہاں میں دوبارہ یہی کہوں گا کہ جو بھی حالات ہوں، جیسا بھی کسی کا رویہ ہو ، آپ لوگوں نے خوش اخلاقی اور صبر اور حوصلہ کا مظاہرہ کرنا ہے۔مہمانوں کو کھانے کے لئے جو بھی میسر آئے ان تین دنیوں میں انہیں ہنسی خوشی اسے کھالینا چاہئے۔دیکھیں یہ کتنابڑا جذبہ ہے کہ بعض لوگ جو بعض محکموں میں افسر ہیں صرف اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت میں برکت ہے، رخصتیں لے کر ایک شوق اور جذبے سے کھانا پکانے کی خدمت بھی سر انجام دیتے ہیں۔اس لئے کھانے کے مزہ میں اگر کمی بیشی بھی ہو جائے تو شکایت کی ضرورت نہیں۔لیکن جو کھانا کھلانے والے کارکن ہیں اور جو کھانا تقسیم کرنے والے ہیں وہ بھی یاد رکھیں کہ جب کسی کو کھانا دیں تو عزت سے دیں اور اگر