خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 351 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 351

351 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جولائی 2017 خطبات مسرور جلد 15 اور نہ صرف یہ کہ ایک دوسرے کے حق ادا نہیں کر رہے بلکہ خود غرضی اور خود پسندی کا بھی اظہار کر رہے ہو۔اپنے آرام کو دوسروں کے آرام پر ترجیح دے رہے ہو۔جلسہ پر آکر اس طرح کے اظہار کر رہے ہو کہ گویا یہ کوئی دنیاوی میلہ ہے۔جبکہ جلسہ پر آنے کا مقصد تو تقویٰ میں ترقی کرنا، خدا تعالیٰ سے اپنے تعلق میں بڑھنا اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنا اور ایک دوسرے کے لئے اپنے قربانی کے جذبے اور معیار کو بڑھانا ہے اور جب آپ نے دیکھا کہ اس معیار پر کچھ لوگ پورا نہیں اتر رہے تو آپ کو بڑا صدمہ پہنچا جس کا اظہار آپ نے بڑا کھل کر فرمایا۔(ماخوذ از شهادة القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394-395) پس جلسہ میں شامل ہونے والے مہمان جب جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آتے ہیں تو صرف وہ مہمان نہیں ہوتے کہ بحیثیت مہمان اپنے سے بہتر سلوک اور آرام و آسائش کی توقع رکھیں بلکہ وہ ایثار و قربانی کے اعلیٰ معیار بھی حاصل کرنے والے ہونے چاہئیں اور جلسہ منعقد کرنے کا جو مقصد ہے وہ ہر وقت ان کے سامنے ہونا چاہئے جو جیسا کہ میں نے کہا اللہ سے تعلق اور روحانیت میں ترقی ہے اور ایک دوسرے کا حق ادا کرنا ہے۔جہاں تک غیر از جماعت مہمانوں کا تعلق ہے تو یقیناً ہم نے ان کا خیال رکھنا ہے اور ان کی مہمان نوازی میں اپنے وسائل کے مطابق جس حد تک سہولت مہیا ہو سکتی ہے اور مہمان نوازی کا حق ادا ہو سکتا ہے ادا کرنا ہے اور خاص طور پر بعض قوموں کے سردار جو ہیں وہ بھی مہمان بن کے آئے ہیں۔ان کا جہاں تک مہمان بن کے آنے کا تعلق ہے ان کی مہمان نوازی خاص توجہ سے کرنی چاہئے کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی ہے کہ قوموں کے لیڈر اور سردار جو تمہارے پاس آئیں تو ان کو عزت دو، ان کا احترام کرو اور ان کی خاطر تواضع کرو۔(سنن ابن ماجه كتاب الأدب باب اذا أتاكم كريم قوم فاکرموہ حدیث 3712) اسی طرح جو حق کی تلاش میں آنے والے ہیں وہ بھی بہت سارے لوگ آتے ہیں۔وہ کوئی بھی ہوں ان کی مہمان نوازی ہمیں پوری طرح کرنی چاہئے۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی بات سمجھائی ہے۔چنانچہ آپ اپنے لنگر کے کارکنوں کو یہی ہدایت فرماتے تھے کہ تم کسی کو جانتے ہو یا نہیں جانتے۔کوئی بڑا ہے یا چھوٹا ہے، امیر ہے یا غریب ہے ، تم نے ہر ایک کی مہمان نوازی کرنی ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 6 صفحہ 226) لیکن ایک احمدی جب جلسہ پر شامل ہونے کے لئے آتا ہے تو اسے اپنے آپ کو مہمان اور میزبان دونوں سمجھنا چاہئے۔تبھی ایثار اور قربانی کا جذبہ بڑھے گا اور جلسہ کا ماحول پر امن اور پیار اور محبت کا ماحول بنے گا۔مہمان کو ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہئے کہ اس نے گھر والے کے لئے تنگی کے سامان نہیں کرنے بلکہ سہولت کے سامان کرنے ہیں۔یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔(صحيح البخاري كتاب الأدب باب اكرام الضيعف و خدمته۔۔۔الخ حدیث 6135)