خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 350
خطبات مسرور جلد 15 350 30 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جولائی 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 28 جولائی 2017ء بمطابق 28 وفا 1396 ہجری شمسی بر موقع جلسہ سالانہ برطانیہ 2017ء بمقام حدیقۃ المہدی، آلٹن (Alton) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج یو کے (UK) کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔دعاؤں پر ان دنوں میں بہت زور دیں اور جن کو توفیق ہے وہ صدقات بھی دیں کہ اللہ تعالیٰ اس جلسہ کو ہر لحاظ سے کامیاب اور بابرکت فرمائے اور سب لوگ، یہاں آکر شامل ہونے والے بھی اور دنیا میں مختلف ممالک میں رہنے والے احمدی بھی جو ایم ٹی اے کے ذریعہ سے جلسہ کی کارروائی سن رہے ہیں، جلسہ کی ہر لحاظ سے کامیابی اور دشمن کے ہر شر سے بچنے کے لئے دعا کریں۔گزشتہ خطبہ میں میں نے مہمان نوازی کرنے والے کارکنان کو جلسہ کے مہمانوں کی مہمان نوازی کرنے کی طرف توجہ دلائی تھی۔آج مختصراً مہمانوں کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ مہمان کے بھی کچھ فرائض اور ذمہ داریاں ہیں جسے اس نے ادا کرنا ہے۔مہمان کا بیشک اسلام میں بہت حق ہے لیکن اسلام ایک ایسا معتدل اور اعتدال کی تعلیم دینے والا مذہب ہے جو صرف ایک فریق کو ہی ذمہ داریوں کا احساس دلا کر اس طرف توجہ دینے کی نصیحت نہیں کرتا بلکہ دوسرے فریق کو بھی کہتا ہے کہ تم بھی اپنے فرائض ادا کر و اور جن حقوق کی ادائیگی تم پر واجب ہے تم انہیں ادا کرو کیونکہ یہی بات ہے جو پیار، محبت اور بھائی چارے پر مبنی ایک معاشرے کے قیام کا باعث بنے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب ایک سال ناراضگی کا اظہار فرماتے ہوئے جلسہ کا انعقاد نہیں فرمایا تھا تو اس وقت اس کی وجہ بھی جلسہ میں شامل ہونے والوں کے غلط رویے تھے۔یعنی آنے والے مہمان اپنے فرائض اور حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے آپ علیہ السلام کے صدمے اور ناراضگی کی وجہ بنے تھے۔آپ نے ناراضگی کا اظہار اس لئے نہیں فرمایا تھا کہ جلسہ میں شامل ہونے والے لوگوں سے آپ کو کوئی براہ راست تکلیف پہنچی ہے۔بلکہ آپ نے یہ اظہار فرمایا کہ تم لوگ جو جلسہ میں شامل ہوئے ہو ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کر رہے