خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 349 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 349

خطبات مسرور جلد 15 349 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جولائی 2017 ہو تا۔پھر وہ لکھتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سیرت کا مطالعہ کرتے تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔بڑی محبت اور جذبات کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کیا کرتے تھے۔اور کہتی ہیں دنیاوی سر گرمیاں بھی ہوں چاہے تیرا کی ہے یا سیر ہے اس میں ہر وقت ذکر الہی اور اللہ تعالیٰ کی یاد کو ہمیشہ سامنے رکھتے۔اور باپ ہونے کے لحاظ سے بھی بڑے شفیق باپ تھے۔سارے بچوں کا خیال رکھا۔بچوں کو سمجھاتے رہے۔خلافت سے تعلق بھی ان کا بہت مضبوط تھا۔میرے ساتھ بھی خلافت کے بعد انہوں نے خاص تعلق رکھا اور اسے بڑھایا اور بڑا اخلاص و وفا کا اظہار کیا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے ، مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیوں پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرا جنازه مکرمه محمودہ بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری محمد صدیق بھٹی صاحب کا ہے جو ہمارے مبلغ سلسلہ نائیجر اصغر علی بھٹی صاحب کی والدہ ہیں۔یہ 16 جولائی کو 73 سال کی عمر میں وفات پاگئیں اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کے خاندان میں احمدیت 1928ء میں آئی جبکہ آپ کے دادا چو ہدری سرور خان صاحب مرحوم نے احمدیت قبول کی۔ان کے بیٹے لکھتے ہیں کہ آپ نے کفایت شعاری اور خود داری سے زندگی گزاری۔خوددار خاتون تھیں۔بارعب تھیں۔ساری عمر صبر اور دعا سے آپ کی زندگی عبارت تھی۔خلافت سے بے پناہ محبت تھی۔جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔انتہائی سادہ اور غریب پرور خاتون تھیں۔نماز اور قرآن سے عشق تھا۔صبح تین بجے تہجد کے لئے بلاناغہ اٹھ جاتیں اور کہتی تھیں کہ تہجد میں نے شادی سے پہلے شروع کی تھی اور مجھے نہیں یاد کہ کبھی سستی کی وجہ سے میں نے تہجد چھوڑی ہو۔لکھتے ہیں کہ ناشتہ وغیرہ اور گھر کے دوسرے کاموں سے جلدی جلدی فارغ ہو کر اشراق کی نماز کے لئے کھڑی ہو جاتیں۔ان کے میاں 28 سال تک اپنی جماعت کے صدر رہے اس عرصہ میں جو بھی آنے والے لوگ تھے ان کی مہمان نوازی انہوں نے بہت بڑھ چڑھ کے کی اور ان کے بیٹے لکھتے ہیں کہ مالی حالت اچھی نہ ہونے کے باوجود غریبوں کی مدد بھی کرتی تھیں۔اگر کوئی پریشانی یا مالی تنگی ہوتی تو نماز شروع کر دیتی تھیں اور تنگی کے باوجو د بچوں کو تعلیم دلوائی۔بچوں کی خاطر تعلیم کی خاطر اپنا زیور اور مویشی تک پیچ دیئے۔اپنے بھائیوں اور والدین کی وفات کے صدمے برداشت کرنے پڑے لیکن کبھی شکوہ نہیں کیا۔اسی طرح ان کی دو پوتیاں بھی وفات پاگئیں۔مرحومہ موصیہ تھیں اور پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹیاں اور چھ بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا ان کے بیٹے اصغر علی بھٹی نائیجر میں مشنری ہیں اور یہ اپنے تبلیغ کے میدان میں مصروفیت کی وجہ سے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کے لئے تمام دعاؤں کو قبول فرمائے۔ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 11 اگست 2017 ء تا 17 اگست 2017 ، جلد 24 شماره 32 صفحہ 05تا08)