خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 348
خطبات مسرور جلد 15 348 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جولائی 2017 مجھے ایک سخت دھچکا لگا۔وہ کئی سال پہلے کی پرانی بات مجھے یاد آگئی اور میر ادل ہر گز یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا کہ جو چہرہ میں نے بٹالہ کے اسٹیشن پر چند سال پہلے دیکھا تھا وہ ایسا کام کرے بلکہ ایسا سوچ بھی سکے۔کہتے ہیں کہ میں بہت پریشان ہوا اور متواتر پریشان رہا اور کئی بار فائل میں سے کوئی غلطی نکالنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔اس پریشانی کی حالت میں کہتے ہیں میں نے انگریز ڈی ایس پی کو اپنے دفتر میں بلوایا تا کہ اس کے ساتھ کیس کے بارے میں مشورہ کروں۔ڈی ایس پی سے پوچھا کہ عبد الحمید جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہ الزام لگایا تھا کہ نعوذ باللہ آپ نے اس کو قتل کے لئے بھیجا ہے کیا وہ پولیس کے قبضہ میں ہے یا ابھی چرچ کے پاس ہے۔تو اس سوال پر کہتے ہیں انگریز ڈی ایس پی چونکا کیونکہ اسے اچانک احساس ہوا کہ پولیس نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے کیونکہ پولیس نے عبد الحمید کو اپنی حراست میں نہیں رکھا بلکہ چرچ کے پاس ہی رہنے دیا اور کہتے ہیں وہ اسی وقت بھاگتا ہوا گیا کہ میں ابھی آتا ہوں۔کچھ دیر کے بعد جب وہ انگریز ڈی ایس پی واپس آیا تو اس نے کہا کہ ہم سے بڑی غلطی ہو گئی تھی کہ ہم نے عبد الحمید کو چرچ کے پاس ہی رہنے دیا۔اب ہم نے اسے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے اور وہ مان گیا ہے کہ یہ کیس بالکل جھوٹا ہے اور میں نے چرچ سے رقم لینے کے لئے لالچ میں یہ کہانی گھڑی ہے۔چنانچہ کیس چلا اور سب گواہیاں سننے کے بعد کرنل ڈگلس صاحب کہتے ہیں کہ میں نے مرزا صاحب کو باعزت طور پر بری کر دیا۔فیصلہ سنانے کے بعد میں نے مرزا صاحب سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو استغاثہ کرنے والوں پر آپ ہر جانہ کا کیس کر سکتے ہیں۔مگر انہوں نے فرمایا کہ نہیں ہمارا مقدمہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے مجھے کوئی ہر جانہ نہیں چاہئے۔(ماخوذ از الفضل مورخہ 26 اگست 2010ء صفحہ 3 تا 5، مورخہ 27 اگست 2010ء صفحہ 3-4، مورخہ 30 اگست 2010ء صفحہ 5، مورخہ 18 مئی 2009ء صفحہ 3-4) تو یہ دو تاریخی واقعات ان کے ہیں۔ایک تو پارٹیشن کے وقت حضرت مصلح موعود کا سامان لانے کا اور ایک یہ کرنل ڈگلس کی کہانی۔باقی واقعہ تو سنا ہی ہوا ہے لیکن یہ اتنا حصہ جو پہلے تھاوہ بہت کم لوگوں نے سنایا پڑھا ہے۔آپ جیسا کہ میں نے بتایا حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کے سب سے بڑے بیٹے تھے اور اس لحاظ سے جو انتخاب خلافت کمیٹی ہے، صحابی کے بڑے بیٹے ہونے کی حیثیت سے اس کے ممبر بھی تھے اور خلافت ثالثہ ، رابعہ اور خامسہ میں انتخاب خلافت کمیٹی میں شامل ہوئے اور انہوں نے یہی کہا کہ انتخاب کے وقت جو جذبات اور احساسات ہوتے ہیں اس سے میں گواہی دے سکتا ہوں کہ جو خلافت ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے کیونکہ بعض دفعہ آدمی کچھ اور سوچ رہا ہو تا ہے لیکن جس کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنانا ہوتا ہے اس کے لئے ہی دل میں تحریک پیدا کرتا ہے۔بہت نیک، دعا گو تھے لیکن خاموش دعا گو انسان تھے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عشق اور محبت تھی ان کے بارے میں ان کی بیٹی لکھتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری محبت تھی اور مجھے بھی یہی کہتے تھے کہ اللہ کی عظمت کو ہر دن محسوس کرنے کی کوشش کرو۔محض رسمی عبادت کا کوئی فائدہ نہیں