خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 347
خطبات مسرور جلد 15 347 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جولائی 2017 میرے پاس پیش ہوا اس سے چند سال پہلے کا ایک واقعہ ہے جہاں سے میں تمہیں سنانا شروع کر تاہوں۔کہتے ہیں کہ میں اس زمانے میں بٹالہ کا اسسٹنٹ کمشنر تھا۔ایک روز میں امر تسر سے بٹالہ ٹرین میں واپس آرہا تھا۔کرنل ڈگلس نے ان کو بتایا یہ بھی ایک تاریخی واقعہ ہے کہ آخری بوگی کے فرسٹ کلاس میں سوار تھا تو امر تسر سے چلنے سے پہلے وہ کہتے ہیں کہ مجھے گورداسپور کے اسسٹنٹ کمشنر کا پیغام ملا کہ مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے اس لئے میں تمہیں بٹالہ کے سٹیشن پر ملوں گا۔کرنل ڈگلس کہتے ہیں جب ٹرین بٹالہ پہنچی تو اسسٹنٹ کمشنر گورداسپور سٹیشن پر موجود نہیں تھا۔اس خیال سے کہ شاید ٹرین کی سب سے اگلی ہوگی والے فرسٹ کلاس میں مجھے ڈھونڈ رہا ہو گا۔میں جلدی سے ٹرین سے اترا اور پلیٹ فارم کے جنگلے کے ساتھ ساتھ جلدی جلدی قدم بڑھاتے ہوئے ٹرین کے سب سے اگلے حصہ کی طرف روانہ ہوا۔پھر کرنل ڈگلس نے ان کو بتایا کہ جب میں پلیٹ فارم کا قریباً دو تہائی حصہ عبور کر چکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے سے ایک شخص چلا آ رہا ہے نگاہیں نیچی ہیں بے حد نورانی چہرہ ہے اس کے چہرے میں ایک ایسی کشش تھی کہ میرا دل اور دماغ ہل کر رہ گئے۔کرنل صاحب کہتے ہیں کہ لگتا تھا کہ اسے دنیا سے کوئی رغبت ہی نہیں اور وہ آہستہ آہستہ چلا آرہا تھا۔میرے لئے ممکن ہی نہ رہا کہ اتنے نورانی چہرے سے اپنی نگاہیں اٹھا سکوں چنانچہ میں ٹکٹکی باندھے اس کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا۔وہ شخص میرے پاس سے گزر گیا تو پھر بھی میں اسے دیکھتا رہا اور آہستہ آہستہ گھومتا گیا اور آخر کار میں الٹے پاؤں چلنے لگ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوسری طرف جارہے تھے یہ دوسری طرف جارہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھنے کے لئے انہوں نے اپنا رخ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف کر لیا اور الٹے پاؤں جس طرف جارہے تھے اس طرف چلنا شروع کر دیا تا کہ میں اس شخص کو دیکھتار ہوں۔تو کہتے ہیں اس عرصے میں اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر جو انڈین تھا وہ بھی اپنی جھنڈیاں لے کر آگیا لیکن اس نے مجھے نہیں دیکھا۔الٹا چلتے ہوئے ہماری ٹکر ہو گئی جس کی وجہ سے وہ گر گیا حالانکہ قصور میرا تھا لیکن کیونکہ اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی وہ اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر مجھ سے معافیاں مانگنے لگ گیا۔اس سے میں نے کہا نہیں تمہارا قصور نہیں، میرا ہے۔خیر میں نے اس سے پوچھا کہ یہ جو شخص جارہا ہے یہ کون ہے ؟ تو اس اسٹیشن ماسٹر نے کہا آپ نہیں جانتے؟ یہ قادیان کے مرزا صاحب ہیں۔تو کہتے ہیں میں اس وقت جذباتی طور پہ بڑا مغلوب ہو چکا تھا۔ایسا نورانی چہرہ میں نے ساری عمر کبھی نہیں دیکھا تھا اور یہ اثر مجھ پر کافی عرصے تک قائم رہا۔پھر آہستہ آہستہ بھول گیا۔کہتے ہیں کہ پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فائل آئی اور میں حج مقرر ہو کے آیا تو اس وقت میں نے دیکھا کہ فائل بڑی مکمل ہے۔جو کیس بنایا گیا ہے یہ بڑا صحیح طریقے سے بنایا گیا ہے اور کوئی اس میں ستم نہیں ہے اور ملزم کو سزا بہر حال دینی پڑے گی۔لیکن کہتے ہیں مگر جب میں نے یہ پڑھا کہ ملزم مرزا غلام احمد آف قادیان ہے تو