خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 346 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 346

خطبات مسرور جلد 15 346 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جولائی 2017 اور احتیاط کے بارے میں تم نے شیخ صاحب کو انہی الفاظ میں بیان کرنا ہے جیسا میں تمہیں بتارہا ہوں اور ان سے وصولی کی رسید بھی لینی ہے جو پھر تم نے واپس آکر مجھے دینی ہے۔تو میر صاحب کہتے ہیں کہ میرا نا پختہ ذہن تھا اس وقت یہ خیال مجھے آیا کہ شاید حضور مجھے کوئی جماعت کا خزانہ یا جواہرات اور ہیروں کا بکس دیں گے جو میں نے لے کر جانا ہے۔لیکن تھوڑی دیر بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اپنی جگہ سے اٹھے اور ایک میلا سا چھوٹاٹریول بیگ لا کر مجھے دیا۔بیگ کینوس کا تھا اور زِپ (zip) بھی اُس کا ٹوٹا ہوا تھا۔بیگ کا غذات سے بھر اہو ا تھا۔آپ نے وہ بیگ میرے سامنے رکھا اور فرمایا کہ میری قرآن شریف کی لکھی ہوئی تفسیر کا کچھ حصہ تو چھپ چکا ہے۔کچھ حصہ لکھا جاچکا ہے مگر ابھی چھپا نہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا کہ مگر ابھی بہت سے حصہ کی تفسیر لکھنے کا کام باقی ہے۔چونکہ میری زندگی کا ایک بڑا مشن اس تفسیر کو مکمل کرنا ہے اس لئے میری عادت ہے کہ دن ہو یا رات، چلتا پھر تاہوں یا کوئی اور کام کر رہا ہوں مگر جو بھی کر رہا ہوں اگر قرآن شریف کی کسی آیت کے بارے میں میرے ذہن میں کوئی نیا مطلب آئے تو میں فوراً اس پوائنٹ کو ایک سادہ کاغذ پر لکھ کر اس بیگ میں ڈال کر محفوظ کر لیتا ہوں تا کہ بوقت ضرورت کام آسکے۔پھر انہوں نے فرمایا کہ ضروری نہیں کہ ان کاغذات پر لکھے ہوئے نوٹس میں کوئی ترتیب ہو مگر میرے لئے یہ بہت بڑا سرمایہ ہے۔تو میر صاحب کہتے ہیں میں نے حضور سے بیگ لیا، اسے سنبھالا اور ہوائی جہاز پر رکھ کر لاہور لے گیا اور وہاں جا کے ایئر پورٹ سے فون کر کے شیخ بشیر احمد صاحب کو بلایا اور ان کے یہ سپر د کر دیا اور ان سے رسید لی۔یہ کافی لمبا واقعہ ہے اور ایک تاریخی واقعہ ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ کے اہم قیمتی نوٹس جو تھے وہ یہ لے کر آئے۔اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے خاص تاکید فرمائی تھی۔بہر حال 1950ء میں پھر حضرت مصلح موعودؓ نے ان کو کہہ دیا کہ ٹھیک ہے اب تم ایئر فورس واپس جاسکتے ہو جہاں انہوں نے 1965ء تک ایئر فورس میں ملازمت کی اور ونگ کمانڈر کے عہدے تک پہنچے اور اس دوران میں انہوں نے بعض بڑے کو رسز بھی کئے۔انگلینڈ میں بھی کورسز کئے۔1960 ء سے تریسٹھ تک کوئٹہ میں آرمی کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں بطور انسٹرکٹر بھی رہے۔وار پلانگ (war planning) کے انچارج بھی رہے اور جب یہ 1953ء میں کچھ فضائیہ کے ٹریننگ کورس کرنے کے لئے یہاں آئے تھے اس وقت مکرم چوہدری ظہور باجوہ صاحب یہاں مشنری تھے تو کہتے ہیں کہ اپنی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد کیونکہ میرے واپسی کے چند دن باقی تھے اس لئے یہاں مشن ہاؤس میں باجوہ صاحب کے پاس میں ٹھہر گیا۔اس وقت کہتے ہیں مجھے باجوہ صاحب کے ذریعہ سے کرنل ڈگلس صاحب سے ملاقات کا موقع پیدا ہوا۔باجوہ صاحب نے انہیں میرا تعارف کروایا۔کہتے ہیں کہ کرنل ڈگلس صاحب کے پاس گئے تو ان سے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مقدمہ کے بارے میں پوچھا جو قتل کا مقدمہ تھا۔کہتے ہیں کرنل صاحب نے کہا کہ میں اس وقت گورداسپور کا ڈپٹی کمشنر تھا۔کہتے ہیں کہ کیپٹن ڈگلس صاحب نے کہا کہ جب یہ قتل کا مقدمہ