خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 345
345 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جولائی 2017 خطبات مسرور جلد 15 صاحب نے دو شادیاں کی تھیں۔پہلی شادی حضرت شوکت سلطان صاحبہ کے ساتھ تھی جو 1906ء میں ہوئی تھی ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی اور ان کی دوسری شادی امتہ اللطیف بیگم صاحبہ سے 1917ء میں ہوئی جو حضرت مرزا محمد شفیع صاحب دہلوی محاسب صدر انجمن احمدیہ کی بیٹی تھیں۔ان سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے سات بیٹیاں اور تین ملٹے پید اہوئے۔(ماخوذ از حضرت میر محمد اسماعیل رضی اللہ عنہ از سید حمید اللہ نصرت پاشا صفحہ 94 طبع دوم 2009ء قادیان) میر محمد احمد صاحب نے قادیان سے 1939ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے بی ایس سی کا امتحان دیا۔پھر آپ 1943ء میں رائل انڈین ائیر فورس میں بطور فلائٹ کیڈٹ کے شامل ہو گئے۔آپ کی بیگم مکر مہ امۃ اللطیف صاحبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی بیٹی ہیں اور ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ایک بیٹے باشم اکبر صاحب یہاں ہمارے ہارٹلے پول کے صدر جماعت بھی ہیں اور ایک بیٹی ڈاکٹر عائشہ ہیں۔یہ امریکہ میں ہیں۔دوسری جنگ عظیم کے بارہ میں انہوں نے خود بھی ایک دفعہ اپنے حالات لکھے تھے۔1943ء میں فلائٹ کیڈٹ بھرتی ہوئے اور جنگ عظیم میں فائٹر پائلٹ کے طور پر برطانیہ کی طرف سے جنگ میں شامل ہوئے۔جنگ کے دوران برما فرنٹ پر 1945ء میں آپ کے جہاز کو ایک دفعہ کریش لینڈنگ بھی کرنی پڑی۔جہاز تباہ ہو گیا لیکن آپ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔پھر 1947ء میں آپ کی ٹرانسفر سول ایوی ایشن کے محکمہ میں ہو گئی۔انڈین نیشنل ایئر بیس میں فلائنگ ڈیوٹی ادا کرتے رہے اور اس وقت 1947ء میں حالات خراب تھے۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی وفات بھی 1947 ء میں ہوئی تھی لیکن حالات کی وجہ سے آپ ان کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے اور دو دن بعد قادیان پہنچے۔ان کے جو تاریخی لحاظ سے جماعت کے ساتھ وابستہ واقعات ہیں وہ یہ ہیں کہ جب ایئر فورس میں تھے تو اس وقت پارٹیشن کے وقت حضرت مصلح موعود کی ہدایت پر جماعت نے دو چھوٹے جہاز خریدے تھے۔پائلٹ کی ضرورت تھی۔کہتے ہیں ایک رات مجھے پیغام ملا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بلایا ہے کہ فوراً آ جاؤ تو یہ اسی وقت قادیان روانہ ہو گئے اور وہاں جاکے طے پایا کہ جہاز کے انچارج حضرت صاحبزادہ مر زاناصر احمد صاحب، خلیفۃ المسیح الثالث، جو اُس وقت صدر خدام الاحمدیہ تھے وہ ہوں گے اور ان کے تحت یہ کام کریں گے۔بہر حال اس وقت یہ بہت ساضروری سامان پاکستان پہنچاتے رہے۔ایک دلچسپ واقعہ جو انہوں نے لکھا ہے جو ایک بڑا تاریخی اور بڑا اہم واقعہ ہے وہ یہ ہے کہ ایک دن صبح مجھے مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قصر خلافت کے دفتر میں بلایا اور مجھے کہا کہ تمہیں اپنی آج سب سے قیمتی چیز میں دے رہا ہوں جو تم نے لاہور لے کر جانی ہے اور شیخ بشیر احمد صاحب کے سپر د کرنی ہے اور اس چیز کی حفاظت