خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 344
خطبات مسرور جلد 15 344 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 جولائی2017 ہیں کہ "جن لوگوں کو کثرت سے آپ کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ کسی مہمان کو (خواہ وہ سلسلہ میں داخل ہو یا نہ ہو ) " یعنی احمدی ہے یا نہیں ہے " ذراسی بھی تکلیف حضور کو بے چین کر دیتی ہے۔"لکھتے ہیں کہ "مخلصین احباب کے لئے تو اور بھی آپ کی روح میں جوش اور شفقت ہوتا ہے۔" (ملفوظات جلد 7 صفحہ 101) جو احمدی ہیں، مخلصین ہیں ان کے لئے بڑا جوش اور شفقت ہوتا ہے۔پس یہ جوش اور شفقت ہمیں جلسہ پر آنے والے مہمانوں کے لئے زیادہ سے زیادہ دکھانا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان کی اہمیت اور احترام کے بارے میں ہمیں کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کے لئے تین باتوں کا کرناضروری ہے۔یہ کہ اچھی بات کہو یا خاموش رہو۔اپنے پڑوس کی عزت کرو اور تیسرے یہ کہ اپنے مہمان کا احترام کرو۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب الحث على اكرام الجار والضيف۔۔الخ حديث 173) پس مہمان کا احترام بھی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے۔اس کے علاوہ اور بہت سی شرائط ہیں۔یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک مومن کے ایمان کے اعلیٰ معیار کے لئے مہمان نوازی بھی ایک شرط ہے۔مہمان نوازی کے ضمن میں یہ بھی بتادوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مہمانوں کی دینی حالت کی بہتری اور تربیت کا بھی خیال فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ نے آئے ہوئے مہمانوں کو کھانا وغیرہ کھلانے کے بعد ان کو ان کی خواہش کے مطابق مسجد میں سونے کے لئے بھیج دیا اور پھر صبح فجر کی نماز کے لئے سب کو جگایا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 351-352 حدیث 15628 حديث طخفة بن قيس الغفارى مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) تو جلسہ میں جو شعبہ تربیت ہے وہ بھی اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ مہمانوں کو نماز کے لئے بھی توجہ دلاتے رہیں اور فجر اور تہجد کے لئے جگائیں لیکن نرمی اور پیار سے۔بہر حال یہ چند باتیں تھیں جو مہمانوں کے حوالے سے میں نے کہیں۔اللہ تعالیٰ سب کارکنان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی احسن رنگ میں خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔نمازوں کے بعد میں دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔پہلا ہے مکرم سید محمد احمد صاحب ابن حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو 13 جولائی کو قریباً 92 سال کی عمر میں لاہور میں وفات پاگئے۔انَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کے سب سے بڑے بیٹے تھے اور اس طرح حضرت اُم المومنین ، اناں جان آپ کی پھوپھی تھیں۔آپ کی شادی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی چھوٹی بیٹی سے ہوئی۔اس طرح آپ ان کے سب سے چھوٹے داماد بھی تھے۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل