خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 343
خطبات مسرور جلد 15 343 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جولائی 2017 شعبہ سے متعلقہ کمیوں کو دیکھنے کے لئے کچھ لوگوں کی ڈیوٹی لگا دیں جو اپنے شعبے کے کاموں کی کمی بیشی کا جائزہ لے کر شام کو اپنے افسر کو رپورٹ دیں۔اس سے جلسہ کے دوران بھی اور آئندہ سال کے جلسہ میں بھی بہتری پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جائزہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ انگر کے مہتم کو مہمانوں کی ضروریات کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے لیکن کیونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اس لئے بعض دفعہ خیال نہیں رہتا۔بعض باتیں نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں اس لئے دوسرا شخص یاد دلادے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 220) اور یاد دہانی کے لئے بہترین طریق یہی ہے کہ افسر خود کسی کو اس یاد دہانی کے لئے مقرر کریں جو جائزہ لیتا رہے کہ کہاں کہاں کمی ہے۔امیر غریب کی یکساں مہمان نوازی ہونی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری رہنمائی کے لئے بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے اور بڑی باریکی سے مہمان نوازی کے طریق سمجھائے ہیں۔چنانچہ ایک موقع پر فرمایا کہ : "جو نئے ناواقف آدمی ہیں " یعنی آنے والے مہمان جو پوری طرح واقفیت نہیں رکھتے ، یہاں بھی کئی نئے مہمان دوسرے ملکوں سے آتے ہیں فرمایا کہ تو یہ ہمارا حق ہے کہ ان کی ہر ایک ضرورت کو مد نظر رکھیں۔" فرمایا کہ " بعض وقت کسی کو بیت الخلا کا ہی پتہ نہیں ہو تا تو اسے سخت تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ مہمانوں کی ضروریات کا بڑا خیال رکھا جاوے آپ نے فرمایا کہ " جن لوگوں کو ایسے کاموں کے لئے قائمقام کیا ہے " یا مقرر کیا ہے" یہ ان کا فرض ہے کہ کسی قسم کی شکایت نہ ہونے دیں۔کیونکہ لوگ صد ہا اور ہزارہا کوس کا سفر طے کر کے صدق اور اخلاص کے ساتھ تحقیق حق کے واسطے آتے ہیں۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 220) گو یہ بات آپ نے غیر لوگوں کے حوالے سے بھی بیان فرمائی ہے لیکن اپنوں کو بھی مہمان نوازی اور جلسہ کی مہمان نوازی کے بارے میں بھی ایسے ارشادات ملتے ہیں جہاں آپ نے بہت توجہ دلائی ہے۔اور پھر جیسا کہ میں نے کہا جو غیر از جماعت مہمان یا پریس کے نمائندے ہمارے جلسہ میں شامل ہوتے ہیں وہ عمومی رویوں کا بھی جائزہ لے رہے ہوتے ہیں۔پس ہر شعبہ کے کارکن کے حُسنِ اخلاق کا معیار بہت وسیع ہو نا چاہئے۔پھر ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: "میرے اصول کے موافق اگر کوئی مہمان آوے اور سب و شتم تک بھی نوبت پہنچ جاوے تو اس کو گوارا کرنا چاہئے۔" (ملفوظات جلد 5 صفحہ 91) پس مہمان کا سخت رویہ بھی برداشت کرنا چاہئے چاہے وہ غیر ہیں یا اپنے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان نوازی کا معیار کا ذکر لکھنے والے نے اس طرح ایک دفعہ کا ذکر لکھا ہے کہ " اعلیٰ حضرت حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مهمان نوازی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اعلیٰ اور زندہ نمونہ ہیں۔" یہ لکھتے