خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 9
خطبات مسرور جلد 15 9 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017 ان کی قربانیاں معمولی ہوتی ہیں۔بہر حال گو یہاں بھی بہت سارے ایسے ہیں جو غیر معمولی قربانیاں دینے والے ہیں لیکن دنیا میں ہر جگہ بہت سارے امراء ایسے ہیں جو اس طرف توجہ کم دیتے ہیں۔ان کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔جیسا کہ جنوری کے پہلے جمعہ میں وقف جدید کے نئے سال کے آغاز کے اعلان کا طریق ہے تو ان چند واقعات کے بعد جو کافی واقعات میں سے چند ایک میں نے لئے تھے ، یا چندے کی اہمیت بتانے کے بعد اب میں وقف جدید کے ساٹھویں سال کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں۔اور اللہ تعالیٰ کے گزشتہ سال کے فضلوں کا ذکر بھی کر دوں کہ وصولیاں کیا ہیں ؟ وقف جدید کا سال 31 دس مبر کو ختم ہوتا ہے۔انسٹھواں سال 31دسمبر 2016ء کو ختم ہوا۔اللہ کے فضل سے دن یا کی جماعتوں نے ، جو اب تک رپورٹیں آئی ہیں اس کے مطابق، وقف جدید میں اتنی لاکھ بیس ہزار پاؤنڈ کی قربانی پیش کی۔گزشتہ سال سے یہ گیارہ لاکھ انیس ہزار پاؤنڈ زیادہ ہے۔اور اس سال بھی پاکستان دنیا کی جماعتوں میں مجموعی طور پر وصولی کے لحاظ سے سر فہرست ہی ہے۔مقامی کرنسی کے لحاظ سے گزشتہ سال کے مقابل پر نمایاں اضافہ کرنے والے ملکوں میں غانا سر فہرست ہے۔مغربی افریقہ کا ملک غانا۔پھر جرمنی ہے۔پھر پاکستان۔پھر کینیڈا۔افریقن ممالک میں جن ملکوں نے قابل ذکر قربانی کی ہے وہ مالی ہے۔برکینافاسو ہے۔لائبیریا ہے۔ساؤتھ افریقہ ہے۔سیر الیون ہے۔بینن ہے۔پاکستان کے علاوہ مجموعی وصولی کے لحاظ سے بیرونی ممالک میں پہلی دس جماعتیں۔نمبر ایک پر یوکے، بر طانیہ ہے۔نمبر دو پہ جر منی۔نمبر تین پہ امریکہ۔چار، کینیڈا۔پانچ پہ ہندوستان۔چھ ، آسٹریلیا۔ساتویں نمبر پر مڈل ایسٹ کی ایک جماعت۔آٹھویں نمبر پر انڈونیشیا ہے۔نویں نمبر پر پھر مڈل ایسٹ کا ایک ملک ہے۔دسویں نمبر پر گھانا ہے۔اور اس کے بعد پھر جیم اور سوئٹزر لینڈ آتے ہیں۔فی کس ادائیگی کے لحاظ سے امریکہ نمبر ایک پر ہے۔پھر سوئٹزر لینڈ ہے۔پھر فن لینڈ ہے۔پھر آسٹریلیا ہے۔سنگا پور ہے۔فرانس ہے۔پھر جرمنی۔پھر ٹرینیڈاڈ۔پھر بیلجیم۔پھر کینیڈا۔برطانیہ نمبر ایک پر آنے کے باوجود فی کس ادا ئیگی میں پیچھے ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال وقف جدید میں تیرہ لاکھ چالیس ہز ار چندہ دہندگان شامل ہوئے جو گزشتہ سال سے ایک لاکھ پانچ ہزار زیادہ ہیں۔تعداد میں اضافے کے اعتبار سے کینیڈا، انڈیا اور برطانیہ کے علاوہ افریقہ میں گنی کنا کری، کیمرون، گیمبیا، سینیگال، بین، نائیجر ، کونگو کنشاسا، برکینا فاسو اور تنزانیہ نے نمایاں کام کیا ہے۔نائیجیریا نے اس سال پوری طرح توجہ نہیں دی کیونکہ تعداد کے لحاظ سے ان کی کافی بڑی تعداد گری ہے۔