خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 8

خطبات مسرور جلد 15 8 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017 کانگو کنشاسا سے مبلغ شاہد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک خاتون چھوٹے پیمانے پر تجارت کرتی ہیں۔کہتی ہیں کہ سال کے شروع میں ملکی حالات کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا کہ اس کاروبار میں نفع نہیں ہو گا لیکن میں نے سال کے شروع میں وقف جدید کا چندہ ادا کر دیا اور سوچا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کی گئی تجارت خسارے کا شکار نہیں ہو سکتی۔بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہیں تجارت میں منافع ہوا اور موجودہ ملکی حالات کے باوجود تجارت میں کوئی خسارہ نہیں ہوا۔پھر احمدیوں کی قربانیوں کا دوسروں پر کتنا اثر ہوتا ہے اور یہ بھی تبلیغ کے رستے کھولتا ہے۔اس بارہ میں بنگلہ دیش کے امیر صاحب کہتے ہیں کہ تین دوست زیر تبلیغ ہیں لیکن کافی تبلیغ کے باوجود کوئی بیعت کے لئے آمادہ نہیں ہو رہا تھا۔گزشتہ جمعہ یہ تینوں دوست مسجد آئے۔جمعہ کے خطبہ کے دوران وقف جدید کے حوالے سے توجہ ولائی گئی تو جمعہ کے بعد لوگ چندے کی ادائیگی کرنے کیلئے لائنیں بنا کر کھڑے ہو گئے۔ان زیر تبلیغ دوستوں نے جب یہ منظر دیکھا تو کہنے لگے کہ چندہ لینے کے لئے ہمارے مولویوں کا تو گلا اور زبان دونوں خشک ہو جاتے ہیں اور پھر بھی لوگ چندہ نہیں دیتے۔یہاں ایک چھوٹا سا اعلان کیا گیا ہے اور لوگ چندہ دینے کے لئے لائنیں بنا کر کھڑے ہو گئے ہیں۔یہی اصل اسلامی روح ہے۔چنانچہ ان تینوں دوستوں نے اس منظر کو دیکھنے کے بعد اسی وقت بیعت کرلی اور وقف جدید کی مد میں چندہ بھی ادا کر دیا۔پھر بین کے ریجن کے معلم عبد اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک نو مبائع جماعت " پاپازا" (Kpakpaza) میں چندے کی وصولی کے لئے دورہ کیا تو وہاں پر موجود ایک نو مبائع حاجی ابو بکر صاحب نے پوچھا کہ یہ چندہ کہاں اور کیسے استعمال کیا جائے گا ؟ ان کو مالی نظام کا صحیح طرح پتا نہیں تھا۔انہیں بتایا گیا کہ جماعت احمد یہ انہی چندوں سے مساجد تعمیر کرتی ہے۔قرآن کریم کے تراجم اور دینی کتب کی اشاعت کرتی ہے۔اسی طرح انہی چندوں سے ہسپتال سکولز اور یتیم خانے تعمیر کئے جاتے ہیں۔غرض چندہ میں دیا جانے والا ایک ایک پیسہ خالصۂ دینی کاموں اور فلاحی کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ابو بکر صاحب نے جب یہ سنا تو کہنے لگے مولوی مجھ سے زکوۃ اور خیرات لینے کے لئے آتے تھے مگر انہوں نے کبھی نہیں بتایا کہ یہ پیسے کہاں خرچ ہوں گے۔چنانچہ اس کے بعد فوراً انہوں نے چندہ کی ادائیگی کی اور کہا کہ آئندہ سے جماعت کے تمام چندوں میں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لوں گا۔غرض کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو ایسے لوگ عطا فرما رہا ہے جو قربانیوں میں بڑھنے والے ہیں۔نئے احمدی ہوتے ہیں اور دنوں میں ان کے اندر خدا تعالیٰ کے دین کی خاطر قربانی کرنے کی ایک تڑپ پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن یہ ان لوگوں کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے بلکہ فکر کا مقام ہے جو اچھے حالات میں رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کشائش بھی دی ہوئی ہے۔امیر ملکوں میں رہتے ہیں لیکن