خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 337
خطبات مسرور جلد 15 337 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 جولائی 2017 دلائیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : "میں دیکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے لئے کرتے ہیں۔محبت دنیا ان سے کراتی ہے۔خدا کے واسطے نہیں کرتے۔اگر اولاد کی خواہش کرے تو اس نیت سے کرے وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا پر نظر کر کے کرے کہ کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلائے کلمتہ الاسلام کا ذریعہ ہو۔جب ایسی پاک خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ زکریا کی طرح اولا د دیدے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی نظر اس سے آگے نہیں جاتی کہ ہمارا باغ ہے یا اور ملک ہے وہ اس کا وارث ہو اور کوئی شریک اس کو نہ لے جائے۔مگر وہ اتنا نہیں سوچتے کہ کمبخت جب تو مر گیا تو تیرے لئے دوست دشمن اپنے بیگانے سب برابر ہیں۔" فرماتے ہیں کہ "میں نے بہت سے لوگ ایسے دیکھے اور کہتے سنے ہیں کہ دعا کرو کہ اولاد ہو جائے جو اس جائیداد کی وارث ہو۔ایسا نہ ہو کہ مرنے کے بعد کوئی شریک لے جاوے۔اولاد ہو جائے خواہ وہ بد معاش ہی ہو۔یہ معرفت اسلام کی رہ گئی ہے۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 351-352) عام مسلمانوں میں تو یہ بڑا عام ہے۔اور اسی وجہ سے خاص طور پر لڑکوں کی پیدائش کے لئے بڑی توجہ دی جاتی ہے کہ لڑکا پیدا ہو جائے اور لڑکے جو ہیں وہ اپنی بہنوں کو اور اپنے والدین، اپنی بیٹیوں کو جائیداد نہیں دیتے اور ساری جائیداد کا وارث لڑکوں کو بنا دیتے ہیں جو اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے اور پھر وہ لڑ کے بھی اس جائیداد کو ضائع کر دیتے ہیں۔تو یہ تو دنیا میں ہم دیکھتے ہیں اور آج بھی مثالیں ملتی ہیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ خاص طور پر جو واقفین نو کے ماں باپ ہیں ان کو اپنے بچوں کی تربیت کی طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہئے اور ان کے لئے دعا بھی اس مقصد کے لئے کرنی چاہئے کہ وہ بڑے ہو کر دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں۔وقف کرنے والے ہوں۔یہ نہیں کہ صرف وقف نو کا ٹائٹل لگا دیا اور بڑے ہو کر کہہ دیا کہ ہم تو اپنے کام کر رہے ہیں۔بلکہ جو واقعین تو ہیں وہ پہلے جماعت سے پوچھیں کہ جماعت کو ضرورت ہے کہ نہیں اور اگر جماعت ان کو اپنے کام کرنے کی اجازت دیتی ہے تو کریں ورنہ ان کو خالصتاً اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے اور والدین کے عہد کو پورا کرتے ہوئے اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کرنا چاہئے۔پس اولاد کے لئے دعا اور خواہش اس سوچ کے ساتھ اور اس دعا کے ساتھ ہونی چاہئے کہ ایسی اولاد ہو جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے والی ہو۔جو ہماری یعنی ماں باپ کی اور خاندان کی عزت قائم کرنے والی ہو۔اپنے دادا پڑدادا کے نام کی عزت قائم کرنے والی ہو۔بہت سے ایسے خاندان ہیں جن کے باپ دادا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔صرف ان کی اولاد ہونا ہی کافی نہیں۔بڑے لوگ بڑے فخر سے بتاتے ہیں۔اچھی بات ہے۔لیکن فخر تب ہونا چاہئے کہ وہ نیکیاں بھی جاری ہوں۔اولاد ہونا کافی نہیں ہے بلکہ ماں باپ کا یہ بھی کام ہے کہ اپنی اولاد کے لئے یہ بھی دعا کریں کہ وہ ان کی نیکیاں، باپ دادا کی نیکیاں قائم کرنے والے بھی ہوں اور جب یہ دعاماں