خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 336
خطبات مسرور جلد 15 336 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 جولائی 2017 اس لئے کہ وہ خادم دین ہو بلکہ اس لئے کہ دنیا میں ان کا کوئی وارث ہو اور جب اولاد ہوتی ہے تو اس کی تربیت کا فکر نہیں کیا جاتا۔نہ اس کے عقائد کی اصلاح کی جاتی ہے۔" دین سکھانا بھی ضروری ہے۔یہ نہیں ہے کہ باہر سے وقت نہیں ملا۔دنیاوی پڑھائی میں مصروف ہیں، دنیاوی کاموں میں مصروف ہیں اس لئے نہ خود دین سکھانے کی طرف توجہ دی، نہ بچوں کے لئے کوئی انتظام کیا۔عقائد سکھانا دین سکھانا بڑا ضروری ہے۔فرمایا " اور نہ اخلاقی حالت کو درست کیا جاتا ہے۔" اب اخلاق کے بھی معیار ہیں۔یہاں اخلاق کے معیار کچھ اور ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جو دین میں اخلاقی معیار سکھائے ہیں وہ بہت اعلیٰ معیار ہیں۔صرف دنیاوی اخلاقی معیار نہیں بلکہ وہ اخلاقی معیار ہمیں تلاش کرنے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھائے ہیں، جو اسلام ہمیں سکھاتا ہے، جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے ثابت کر کے ہمیں دکھایا ہے۔اور وہ اخلاقی معیار ہیں جو ہم نے آگے اپنی نسلوں میں قائم کرنے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ : " یاد رکھو کہ اس کا ایمان درست نہیں ہو سکتا جو اقرب تعلقات کو نہیں سمجھتا۔جب وہ اس سے قاصر ہے تو اور نیکیوں کی امید اس سے کیا ہو سکتی ہے۔" فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ نے اولاد کی خواہش کو اس طرح پر قرآن میں بیان فرمایا ہے۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ إمَامًا ( الفرقان : 75) یعنی خدا تعالیٰ ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرمادے اور یہ تب ہی میسر آسکتی ہے کہ وہ فسق و فجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں بلکہ عباد الرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہر شئے پر مقدم کرنے والے ہوں۔اور آگے کھول کر کہہ دیا وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔اولاد اگر نیک اور متقی ہو تو یہ ان کا امام ہی ہو گا۔اس سے گویا متقی ہونے کی بھی دعا ہے۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 370 تا 373) یعنی اپنے آپ کے متقی ہونے کے لئے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ پر چلنے والا بنائے اور آگے پھر اولاد کے بھی متقی ہونے کی دعا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ اولاد کی پرورش " محض رحم کے لحاظ سے کرے نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے۔بلکہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کا لحاظ ہو کہ یہ اولاد دین کی خادم ہو۔" آپ فرماتے ہیں: " لیکن کتنے ہیں جو اولاد کے واسطے یہ دعا کرتے ہیں کہ اولاد دین کی پہلوان ہو۔بہت ہی تھوڑے ہوں گے جو ایسا کرتے ہوں۔" فرمایا کہ " اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ بالکل بے خبر ہیں کہ وہ کیوں اولاد کے لئے یہ کوششیں کرتے ہیں اور اکثر ہیں جو محض جانشین بنانے کے واسطے۔اور کوئی غرض ہوتی ہی نہیں۔صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شریک یا غیر ان کی جائیداد کا مالک نہ بن جاوے۔مگر یاد رکھو کہ اس طرح پر دین بالکل برباد ہو جاتا ہے۔غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو۔" اور خاص طور پر واقفین کو کے والدین کو بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے کہ اپنے بچوں کو دین کی طرف توجہ (ملفوظات جلد 6 صفحہ 381-382)