خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 338 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 338

خطبات مسرور جلد 15 338 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 جولائی 2017 باپ کر رہے ہوں گے تو اپنے پر بھی نظر رکھیں گے کیونکہ ہم اپنے باپ دادا کے نام کو زندہ رکھنے والے تبھی بن سکتے ہیں جب ہم اپنے اعمال پر بھی نظر رکھنے والے ہوں۔پس اپنے جائزوں کے ساتھ ہر ایک کو آخری وقت تک بچوں کی نیک فطرت اور صالح ہونے کے لئے دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : خدا تعالیٰ کی نصرت انہی کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں۔فرمایا ایک جگہ ٹھہر نہیں جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔اور انجام بخیر کے لئے آپ نے فرمایا کہ اپنے لئے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے مستقل دعا کرتے رہنا چاہئے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 10 صفحہ: 139) پھر آپ ہمیں نصیحت فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " وہ کام کرو جو اولاد کے لئے بہترین نمونہ اور سبق ہو۔" یہ والدین کا کام ہے۔فرمایا " اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے اول خود اپنی اصلاح کرو۔اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پرہیز گار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا۔" فرمایا کہ " قرآن شریف میں خضر اور موسیٰ علیہما السلام کا قصہ درج ہے کہ ان دونوں نے مل کر ایک دیوار کو بنا دیا جو یتیم بچوں کی تھی۔وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَكَانَ ابُوهُمَا صَالِحًا (الكهف: 83) ان کا والد صالح تھا۔یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ آپ کیسے تھے۔" بچے کیسے تھے، بلکہ ماں باپ کا ذکر کیا۔فرمایا کہ " پس اس مقصد کو حاصل کرو۔اولاد کے لئے ہمیشہ اس کی نیکی کی خواہش کرو" (ملفوظات جلد 8 صفحہ 110) تو پھر اللہ تعالیٰ اولاد کی بہتری کے لئے اور ان کے رزق کے لئے بھی سامان پیدا فرما تا رہے گا۔پس یہ وہ بنیادی اصول ہے جس کی طرف بار بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توجہ دلائی ہے اور یہ قرآنی تعلیم کی ہی وضاحت ہے کہ ماں باپ کا اپنا نمونہ ہی بچوں کی تربیت میں کردار ادا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم میں سے ہر ایک اولاد کے لئے بہترین نمونہ بننے والے ہوں۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔بعض لوگوں کی عادتیں ہوتی ہیں کہ دوسروں کی طرف دیکھتے رہتے ہیں کہ وہ کیسا ہے تو دوسروں کی طرف نظر رکھنے کی بجائے اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینے والے ہوں اور تقویٰ پر چلنے والے ہوں۔تبھی ہم آگے نیک نسل بھی چلا سکتے ہیں۔اپنی اولاد کے لئے مستقل دعائیں کرنے والے ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ ہماری اولاد کو بھی ہمیشہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے رکھے اور پھر یہ سلسلہ آگے بھی چلتا چلا جائے۔( الفضل انٹر نیشنل مورخہ 28 جولائی 2017 ء تا 10 اگست 2017ء جلد 24 شماره 30-31 صفحہ 25 تا28)